پیرس میں دنیا کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش Eurosatory-2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جہاں اس بار 60 سے زائد ممالک کی تقریباً 2000 کمپنیاں اپنی جدید ترین فوجی اور دفاعی ٹیکنالوجی پیش کر رہی ہیں۔
یہ دو سال بعد منعقد ہونے والی عالمی نمائش 19 جون تک جاری رہے گی اور اسے عالمی دفاعی صنعت کے سب سے اہم پلیٹ فارمز میں شمار کیا جاتا ہے جہاں مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی حکمت عملیوں پر غور کیا جاتا ہے۔

اس سال نمائش کو خاص اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کیونکہ یہ یورپی یونین کے ری آرم یورپ منصوبے کے بعد پہلی بڑی بین الاقوامی دفاعی نمائش ہے جس کے تحت تقریباً 800 ارب یورو کی سرمایہ کاری سے یورپ کے دفاعی نظام کو جدید بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

نمائش میں خاص توجہ ڈرون ٹیکنالوجی، اینٹی ڈرون سسٹمز، میزائل ڈیفنس، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، سائبر سیکیورٹی اور اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ پر دی جا رہی ہے۔
جرمنی کی Rheinmetall، امریکہ کی Lockheed Martin اور یورپ کی Airbus جیسی بڑی دفاعی کمپنیاں بھی اپنی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ موجود ہیں۔

اس ایونٹ میں یوکرین کی دفاعی صنعت نے بھی بھرپور شرکت کی ہے، جہاں 60 سے زائد یوکرینی کمپنیوں نے جنگ میں آزمودہ ڈرونز اور میزائل سسٹمز پیش کیے ہیں۔ کمپنی Skyeton نے اپنا “Raybird” ڈرون پیش کیا ہے جو اب تک 350,000 گھنٹے سے زائد جنگی پرواز کا تجربہ رکھتا ہے، جبکہ Ukrspecsystems نے “SHARK-M” ریکونیسنس ڈرون متعارف کرایا ہے جو 180 کلومیٹر تک ہدف تک رسائی رکھتا ہے۔

کمپنی Fire Point نے بھی اپنی جدید دفاعی مصنوعات پیش کی ہیں، جن میں “Flamingo” راکٹ سسٹم اور FP سیریز (FP-1، FP-2، FP-5، FP-7 اور FP-9) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ میزائل ماڈلز کو بغیر وار ہیڈ اور نیویگیشن یونٹ کے ڈسپلے کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر یہ نمائش نہ صرف جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی نمائش ہے بلکہ عالمی سیکیورٹی اتحاد، نئے معاہدوں اور مستقبل کی دفاعی حکمت عملیوں کے تعین کا اہم مرکز بھی بن چکی ہے، جہاں دنیا بھر کی نظریں مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی پر مرکوز ہیں۔



















