Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ہانگ کانگ میں انوکھی دکان؛ اب انسان نہیں بلکہ تمام کام روبوٹ انجام دیں گے

جاپان میں شیاو گائی نامی روبوٹ دکان میں تمام فرائض سرانجام دیتا ہے۔

ہانگ کانگ میں چوبیس گھنٹے کھلی رہنے والی ایک ایسی دکان قائم کردی گئی ہے جہاں کوئی انسانی ملازم موجود نہیں بلکہ تمام امور ایک روبوٹ انجام دے رہا ہے جسے شہر میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ قرار دیا جارہا ہے۔

ٹیک ویب سائٹ کے مطابق ’’شیاو گائی‘‘ نامی روبوٹ دکان میں سامان ترتیب دینے، مطلوبہ اشیا نکالنے اور خریداروں سے ادائیگی وصول کرنے جیسے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گاہکوں سے گفتگو بھی کرسکتا ہے اور مختلف زبانیں سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دکان میں روزمرہ استعمال کی اشیا، ہلکی پھلکی غذائیں اور عام طبی ضرورت کی ادویات دستیاب ہیں۔ منصوبے کے سرپرست اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی اب عام زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے مطابق روبوٹ کی موجودگی لوگوں کی دلچسپی کا باعث بن رہی ہے اور اس سے دکان پر آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی آئندہ برسوں میں مختلف شہروں میں اس طرز کی سو سے زائد دکانیں قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ روبوٹ کئی کام بیک وقت انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا وہ گاہکوں کی شکایات، ادائیگی کے مسائل اور دیگر غیر متوقع حالات سے بھی کامیابی سے نمٹ سکتا ہے یا نہیں۔

حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں روبوٹس کو عملی خدمات کے لیے استعمال کرنے کے متعدد تجربات کیے جاچکے ہیں۔ بعض منصوبے کامیاب رہے جب کہ کچھ کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق ہانگ کانگ کی یہ دکان مستقبل میں یہ جانچنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوگی کہ روزمرہ کاروبار میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹ کس حد تک انسانی کردار کی جگہ لے سکتے ہیں۔