Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اے آئی سے 2030 تک توانائی کے شدید بحران کا خدشہ، اربوں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر، تہلکہ خیز رپورٹ

چیٹ جی پی ٹی جیسے سسٹمز سالانہ تقریباً 383 گیگا واٹ آور (GWh) بجلی استعمال کرتے ہیں

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی توسیع 2030 تک دنیا کے بجلی، پانی اور زمین کے وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے جس سے اربوں انسان متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اے آئی سے متعلق ڈیٹا سینٹرز 2030 تک تقریباً 945 ٹیرواٹ آور (TWh) بجلی استعمال کریں گے جبکہ 2025 میں یہ کھپت پہلے ہی 448 TWh تک پہنچ چکی ہے اور اگر اسے ایک ملک تصور کیا جائے تو یہ دنیا کا 11واں سب سے بڑا بجلی استعمال کرنے والا ملک ہوگا۔

رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر درست انداز میں نہیں ناپا جا رہا کیونکہ زیادہ تر توجہ کاربن اخراج پر ہے جبکہ پانی اور زمین کے استعمال کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2030 تک اے آئی سے جڑا پانی کا استعمال 9.3 کھرب لیٹر تک پہنچ سکتا ہے جو سب صحارا افریقہ میں 1.3 ارب لوگوں کی سالانہ گھریلو پانی کی ضرورت کے برابر ہے جبکہ اس کا زمینی اثر 14,500 مربع کلومیٹر تک بڑھ سکتا ہے جو جکارتہ میٹروپولیٹن علاقے سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے اے آئی کا سب سے بڑا توانائی استعمال ٹریننگ نہیں بلکہ انفرنس یعنی روزمرہ استعمال میں ہوتا ہے جو 80 سے 90 فیصد تک بجلی استعمال کرتا ہے، اور صرف اے آئی سسٹمز روزانہ تقریباً 2.5 ارب پرامپٹس پروسیس کرتے ہیں جس کے نتیجے میں سالانہ سینکڑوں ٹیرواٹ آور بجلی خرچ ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک عام اے آئی سے بنائی گئی تصویر بنانے میں عام ٹیکسٹ پروسیسنگ کے مقابلے میں تقریباً 1450 گنا زیادہ توانائی استعمال ہوتی ہے جبکہ مختصر اے آئی ویڈیو اتنی بجلی استعمال کر سکتی ہے جتنی 2 لاکھ اسپیم کلاسفکیشنز میں خرچ ہوتی ہے۔

اسی طرح چیٹ جی پی ٹی جیسے سسٹمز سالانہ تقریباً 383 گیگا واٹ آور (GWh) بجلی استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ لو کاربن ہونے کا مطلب ہمیشہ لو واٹر یا لو لینڈ نہیں ہوتا کیونکہ کچھ توانائی ذرائع اخراج کم کرتے ہیں مگر پانی اور زمین پر دباؤ بڑھا دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دستاویز اے آئی کے خلاف نہیں بلکہ اس کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیتی ہے اور ایک ایسے ماحولیاتی نظام کی سفارش کرتی ہے جو شفافیت، توانائی کی بچت، ماحولیاتی انصاف، لائف سائیکل ذمہ داری، عالمی تعاون اور پائیدار استعمال جیسے اصولوں پر قائم ہو، تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ زمین کے وسائل کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔