Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یورپ کی اعلیٰ عدالت کے فیصلے نے ٹیکنالوجی کی دنیا ہلا کر رکھ دی

گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اینڈرائیڈ ایک اوپن سورس اور مفت پلیٹ فارم ہے

یورپ کی اعلیٰ عدالت نے گوگل کو بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے کمپنی کی آخری اپیل بھی مسترد کر دی جس کے بعد اربوں یورو کے اینٹی ٹرسٹ جرمانے سے بچنے کی اس کی کوششیں تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔

یہ مقدمہ گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم سے متعلق تھا جس پر یورپی ریگولیٹرز نے الزام عائد کیا تھا کہ کمپنی نے اپنی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں پر اپنی سروسز کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔

تحقیقات کے مطابق متعدد ڈیوائسز میں گوگل سرچ، کروم براؤزر اور پلے اسٹور کو پہلے سے انسٹال کرنا لازمی قرار دیا گیا جس سے دیگر سرچ انجنز، براؤزرز اور متبادل پلیٹ فارمز کے لیے منصفانہ مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا۔

گوگل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اینڈرائیڈ ایک اوپن سورس اور مفت پلیٹ فارم ہے جس کی ترقی اور بہتری کے لیے کمپنی نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور اس فیصلے میں اس پہلو کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔

یاد رہے کہ یورپی کمیشن نے 2018 میں گوگل پر 4.34 ارب یورو کا ریکارڈ جرمانہ عائد کیا تھا جسے بعد ازاں 2022 میں ایک نچلی عدالت نے کم کرکے 4.1 ارب یورو کر دیا تھا۔

اب یورپی عدالتِ انصاف کی جانب سے اپیل مسترد کیے جانے کے بعد گوگل کے لیے اس تاریخی فیصلے کو مزید قانونی طور پر چیلنج کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں، اور کمپنی کو یورپ میں سخت ریگولیٹری دباؤ کا سامنا رہے گا۔