Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سال 2029 ڈیجیٹل دنیا میں قیامت کا سال ثابت ہو سکتا ہے، ٹیک کمپنیوں کا الرٹ جاری

دنیا بھر میں ماہرین پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی پر کام کر رہے ہیں

تصور کریں کہ ایک دن دنیا کا موجودہ ڈیجیٹل نظام خطرے میں پڑ جائے، آپ کی ای میلز، بینک اکاؤنٹس، چیٹس اور حساس معلومات صرف چند سیکنڈز میں غیر محفوظ ہو جائیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسا خطرہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے یعنی ڈیجیٹل دنیا میں ایک ایسی قیامت برپا ہو سکتی ہے جو دنیا بھر کے ڈیٹا کو ختم کر سکتی ہے۔

گول سمیت ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر کوانٹم کمپیوٹرز نے مطلوبہ طاقت حاصل کر لی تو وہ موجودہ انکرپشن سسٹمز کو چیلنج کر سکتے ہیں، جن پر آج کا انٹرنیٹ، بینکنگ اور آن لائن سیکیورٹی کا پورا نظام قائم ہے۔

آسان الفاظ میں سمجھیں تو عام کمپیوٹر کسی پاس ورڈ یا سیکیورٹی کوڈ کو توڑنے کے لیے ایک ایک امکان آزما سکتا ہے، جبکہ طاقتور کوانٹم کمپیوٹر بیک وقت کئی امکانات کو جانچنے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں، جس سے موجودہ حفاظتی نظام کمزور پڑنے کا خدشہ ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی اس سطح تک پہنچ گئی تو بینکنگ ریکارڈز، نجی پیغامات، سرکاری راز اور دیگر حساس ڈیٹا سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کچھ ہیکرز پہلے ہی خفیہ ڈیٹا محفوظ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں طاقتور کمپیوٹرز کی مدد سے اسے کھولنے کی کوشش کی جا سکے۔

اسی خطرے کے پیش نظر دنیا بھر میں ماہرین پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی پر کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کے سائبر حملوں سے نمٹا جا سکے۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نئے سیکیورٹی معیار تیار کرنے میں مصروف ہیں تاکہ انٹرنیٹ کا تحفظ برقرار رکھا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوانٹم انقلاب ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا، لیکن ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا دنیا کوانٹم کمپیوٹرز کے خطرے سے پہلے اپنی سیکیورٹی مضبوط بنا پائے گی؟

متعلقہ خبریں