Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تیزی سے گھومنے پر نگاہوں سے اوجھل ہونے والا انوکھا ڈرون

مستقبل میں اگر اسے مزید شفاف مواد اور کم شور کرنے والے پرزوں سے بنایا جائے تو اسے دیکھنا اور بھی مشکل ہو سکتا ہے

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے چھوٹی جسامت والا ایک ایسا ڈرون تیار کیا ہے جو بہت تیزی سے گھومتا ہے اور اپنی برق رفتار کی وجہ سے نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے اورانسانی آنکھ سے واضح دکھائی نہیں دیتا ہے محض ایک دھندلے سائے کی شبہ اختیار کر لیتا ہے۔

اس ڈرون کو  فینٹم ٹوئسٹ کا نام دیا گیاہے۔ یہ ایک سیکنڈ میں تقریباً 25  بار گھومتا ہے اتنی تیز گردش کی وجہ سے اس کی شکل واضح نظر نہیں آتی اور وہ اپنے اردگرد کے منظر میں ضم ہوجاتا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی پروفیسر مائیکل روبن اسٹین کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ ڈرون کو چھپانے کے لیے اس کا رنگ یا شکل بدلتے تھے لیکن انہوں نے ایسا ڈرون بنایا جو صرف اپنی برق رفتار کی وجہ سے واضح دکھائی نہیں دیتا یہی وجہ ہےکہ یہ ڈرون قدرتی ماحول میں جنگلی جانوروں یا پرندوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے بہترین ہے۔

خیال رہے کہ یہ ڈرون عام ڈرون سے مختلف ہے عام ڈرون میں چار پروپیلر ہوتے ہیں جبکہ اس میں صرف ایک موٹر اور ایک پروپیلر ہے۔ پروپیلر ایک طرف گھومتا ہے جبکہ پورا ڈرون دوسری طرف گھومتا ہے اس لیے اس کا کوئی حصہ ساکن نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے ڈرونز کو دھوکہ دینے کے لیے فوجی گاڑیوں پر ’زیبرا‘ پیٹرن بنادیا

اس ڈرون کا بہترین ڈیزائن بنانے کے لیے کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت  کی مدد سے تقریباً 20 ہزار مختلف ڈیزائن آزمائے گئ، پھر ان میں سے سب سے بہتر ڈیزائن منتخب کیا گیا تاہم یہ مکمل طور پر غائب نہیں ہوتا۔ اس کے پروپیلر کی آواز اب بھی سنائی دیتی ہے اور اس کے کچھ تار اور ڈنڈیاں بھی کبھی کبھار نظر آ جاتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر اسے مزید شفاف مواد اور کم شور کرنے والے پرزوں سے بنایا جائے تو اسے دیکھنا اور بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی سے جنگلی حیات کا مشاہدہ اور دیگر سائنسی کام بہتر طریقے سے انجام دیے جاسکتے ہیں تاہم اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ لوگوں کی نگرانی کے لیے بھی استعمال ہو سکتاہے جس سے پرائیویسی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔