دنیا کے مقبول ترین ویڈیو پلیٹ فارم یوٹیوب نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والے مواد کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو مزید واضح اور سخت کردیا ہے۔
کمپنی کے مطابق مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو روکنا نہیں بلکہ ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو بغیر کسی تخلیقی کوشش، معلوماتی مقصد یا انسانی شمولیت کے بڑی تعداد میں تیار کرکے اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔
یوٹیوب نے واضح کیا ہے کہ اے آئی ٹولز استعمال کرنے والے کریئیٹرز کے لیے دروازے بند نہیں کیے جا رہے، تاہم ویڈیوز میں منفرد انداز، مفید معلومات اور حقیقی تخلیقی کردار شامل ہونا ضروری ہوگا۔
کمپنی کے مطابق صرف خودکار طریقے سے تیار کی جانے والی، دہرائی جانے والی یا کم معیار کی ویڈیوز کو مونیٹائزیشن کے لیے اہل نہیں سمجھا جا سکتا، جبکہ ایسے مواد کی صارفین کو دکھانے کی ترجیح بھی کم کی جا سکتی ہے۔
یوٹیوب کا کہنا ہے کہ نئی وضاحتوں کا مقصد کریئیٹرز کو واضح رہنمائی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اے آئی کو ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ بڑے پیمانے پر غیر معیاری مواد تیار کرنے کے لیے۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے بعد اے آئی سے تیزی سے ویڈیوز بنا کر آمدنی حاصل کرنے والے چینلز کو اپنے طریقہ کار میں تبدیلی لانا پڑ سکتی ہے، جبکہ معیاری اور منفرد مواد بنانے والے کریئیٹرز کو فائدہ ملنے کا امکان ہے۔




















