امریکا کے فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ بعض غیر ملکی روبوٹس اور دیگر مصنوعات کو قومی سلامتی کے خدشات کے باعث امریکی مارکیٹ میں فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایف سی سی کے مطابق ایسی غیر ملکی مصنوعات چاہے وہ کسی بھی ملک میں تیار کی گئی ہوں امریکا کی قومی سلامتی اور امریکی شہریوں کی حفاظت کے لیے ناقابلِ قبول خطرات پیدا کر سکتی ہیں اس فیصلے کا اطلاق ہیومنوئیڈ (انسان نما) روبوٹس اور چار ٹانگوں والے روبوٹس دونوں پر ہوگا۔
چین کی معروف کمپنی یونی ٹری جو انسان نما اور چار ٹانگوں والے مختلف روبوٹس تیار کرتی ہے اس فیصلے سے متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی کا گھریلو معاون روبوٹ بھی ممکنہ طور پر امریکی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوگا یہ اقدام امریکا کی جانب سے حساس ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔
امریکا میں چینی روبوٹس پر پابندی کی وجہ کیا ہے؟
ایف سی سی کے مطابق جدید روبوٹس انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں ایسے سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز یا غیر ملکی عناصر روبوٹ کے ڈیٹا اور اس کے نظام (آپریشن) پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اس فیصلے سے صرف روبوٹس ہی نہیں بلکہ ایسے غیر ملکی ساختہ انورٹرز بھی پابندی کی زد میں آ گئے ہیں جو بجلی بند ہونے کی صورت میں بیک اپ پاور فراہم کرتے ہیں اور جنہیں وائی فائی، موبائل نیٹ ورک یا بلوٹوتھ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی ریسٹورنٹ میں روبوٹس ویٹر بن گئے
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ڈیوائسز کی ریموٹ کنیکٹیویٹی انہیں سائبر حملوں، جاسوسی، بند کیے جانے یا حساس معلومات غیر ملکی حکومتوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔
البتہ ایف سی سی نے واضح کیا ہے کہ جو مصنوعات پہلے ہی امریکی مارکیٹ میں فروخت ہو چکی ہیں، ان پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ محکمہ دفاع اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو اپنی سرکاری ضروریات کے لیے ان مصنوعات کی خریداری کی اجازت ہوگی۔
اس فیصلے کے بعد امریکا میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث ممنوعہ مصنوعات کی فہرست مزید طویل ہو گئی ہے۔ اس فہرست میں پہلے ہی ہواوے کے اسمارٹ فونز اور ویئریبل ڈیوائسز، ہائے وژن کے سیکیورٹی کیمرے، ڈی جے آئی کے ڈرونز اور بعض دیگر کمپنیوں کے راؤٹرز شامل ہیں۔
ایف سی سی کے مطاب، جن غیر ملکی کمپنیوں کا امریکا میں کاروبار موجود ہے، وہ اپنی مصنوعات کی فروخت جاری رکھنے کے لیے منظوری کی درخواست دے سکتی ہیں۔ تاہم ماضی میں ہواوے اور زیڈ ٹی ای پر 2022 میں عائد کی گئی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منظوری حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
دوسری جانب، اگر کوئی امریکی صارف ہیومنائیڈ روبوٹ خریدنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اب بھی مقامی کمپنیوں کے متبادل موجود ہیں۔ ایکس ون اور فگر جیسی کمپنیاں صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے جدید روبوٹس تیار کر رہی ہیں جو جلد مارکیٹ میں دستیاب ہونے کی توقع ہے۔




















