نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 4 اگست تک بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق مختلف دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے لہڑی کے ہیڈ گوگی مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ وزیرآباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلابی بہاؤ موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے، جبکہ دریائے ناری کے ہیڈ ناری مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے چناب کے مرالہ مقام پر اونچے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر نچلے سے درمیانے درجے کے سیلابی بہاؤ کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
اسی طرح دریائے جہلم، راوی، کابل اور ان کے معاون دریاؤں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ جہلم، چناب اور راوی سے ملحقہ ندی نالوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے بہاؤ کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق راوی اور ستلج دریاؤں میں پانی کی صورتحال کا انحصار بھارت کے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج پر بھی ہوگا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں، وسطی و جنوبی خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان کے ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ اور سندھ کے دیگر نشیبی شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور بارش کے پانی کے جمع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے پہلے موسم کی تازہ صورتحال اور سڑکوں کی حالت ضرور معلوم کریں۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے عبور کرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ کم گہرا دکھائی دینے والا تیز پانی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ برساتی ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں، کیونکہ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔
ادارے کے مطابق سفر کے دوران شہری اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں اور بروقت معلومات کے لیے “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” موبائل ایپ استعمال کریں۔
















