امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدے پر دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے معروف برگن اسٹاک ریزورٹ میں متوقع ہیں۔
سوئس وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ معاہدے کی تقریب ایک محفوظ اور انتہائی نجی پہاڑی مقام پر منعقد ہوگی جو جھیل لوسرن کے قریب واقع ہے۔
حکام کے مطابق اس مقام کا انتخاب اس کی سخت سیکیورٹی اور الگ تھلگ ماحول کے باعث کیا گیا ہے تاکہ حساس سفارتی مذاکرات بلا رکاوٹ مکمل ہو سکیں۔
پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار
سوئس وزارت خارجہ کے مطابق اس مقام کی تجویز پاکستان اور قطر کے ثالثی وفود نے پیش کی جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی خلا کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی وفد کی قیادت کون کرے گا؟
خطے کے میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بھی تصدیق کی ہے کہ دستخطی تقریب سوئٹزرلینڈ میں ہوگی، تاہم حتمی انتظامات ابھی زیر غور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک مکمل امن ڈیل نہیں بلکہ آئندہ وسیع مذاکرات کے لیے بنیاد ثابت ہوگا، جس کے بعد مزید بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگا۔
امریکا کی اعلیٰ سطحی نمائندگی
رپورٹس کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جو اس عمل کو واشنگٹن کی جانب سے اعلیٰ سطحی سیاسی حمایت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اگلا مرحلہ مذاکرات کا نیا دور
مذاکراتی ذرائع کے مطابق ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک ایک نئے اور وسیع مذاکراتی مرحلے میں داخل ہوں گے جس میں دیرینہ اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں نے دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس سے برسوں پر محیط کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہوئی۔
سوئٹزرلینڈ کا غیر جانبدار کردار
سوئٹزرلینڈ ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے لیے غیر جانبدار اور قابل اعتماد مقام کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں دنیا کے اہم ترین سفارتی معاہدے طے پاتے رہے ہیں۔


















