امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جھوٹی اور بدنیت قیادت ملک کو مکمل تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کی مکمل ناکہ بندی کی جائے گی اور ایران آنے اور جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی طاقت کے باعث آبنائے ہرمز ایران کے سوا سب ممالک کے لیے کھلی ہوئی ہے جبکہ ایران کے لیے راستہ بند ہونے کی ذمہ داری ایرانی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کی موجودگی کے باعث تیل کی ترسیل پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس یا فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ریاستیں 20 فیصد امریکی فیس کے بجائے امریکا کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے کریں گی، جو ان کے مستقبل کے لیے غیر معمولی ثابت ہوں گے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے فیکٹریاں، پلانٹس اور سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے لاکھوں نئی اور بہتر تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ “امریکا دوبارہ جیت رہا ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ جیت رہا ہے۔”
ایران پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا بدمعاش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایک موقع دیا گیا تھا لیکن ایرانی قیادت نے پہلے حملہ کیا۔
عراقی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ عراق کو اب ایران سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے جا رہے ہیں، عراق میں سرمایہ کاری کریں گے اور بڑی مقدار میں تیل نکالا جائے گا۔
ٹرمپ نے عراقی وزیراعظم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کم مدت میں بہترین کام انجام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عراق کو تحفظ کی ضرورت ہوئی تو امریکا موجود ہوگا، تاہم عراق میں امریکی فوج کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے کہا کہ 30 ستمبر تک امریکی فوج عراق سے نکل جائے گی جبکہ اس کے بعد عراق میں امریکی سرمایہ کاری جاری رہے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دنیا کی خاطر آبنائے ہرمز کی حفاظت کرنا امریکا کے لیے غیر منصفانہ ہے جبکہ امریکا اور اتحادی ممالک خطے میں استحکام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔




















