ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے امریکا کے سامنے متعدد شرائط پیش کردی ہیں جن میں خطے میں فوجی کارروائیاں روکنے، دھمکی آمیز رویہ ترک کرنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ امریکا کے رویے میں تبدیلی کے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا امکان نہیں۔
ایرانی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی دینے سے گریز کرے اور ایران سمیت اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کرے۔
بیان کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی فوجی دباؤ کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی مبینہ بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی افواج کو خطے سے واپس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی جانب سے 2025 اور 2026 کے دوران ہونے والی جنگوں میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل ازالہ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
ایرانی حکام نے امریکا سے ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے بلاشرط بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق مذکورہ اقدامات کے بغیر آبنائے ہرمز کو معمول کی بحری آمدورفت کیلئے کھولنے کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔




















