واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو نامعقول ملک قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے امریکا کو نقصان پہنچا رہا ہے جب کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کو بھی پیسے کا ضیاع قرار دیتے ہوئے ان میں نمایاں کمی کی ہدایت کی ہے۔
کینیڈا سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کئی دہائیوں سے امریکا کو لوٹتا آرہا ہے اور خود کو خصوصی مراعات کا حق دار سمجھتا ہے۔
امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا امریکی کسانوں پر 400 فیصد سے زائد محصولات عائد کرتا رہا ہے جب کہ کینیڈین پالیسیوں کے باعث امریکا کی بہت سی بہترین کمپنیوں کو اپنا کاروبار بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈا نے 10 سال تک گلف اسٹریم طیاروں کی منظوری نہیں دی جس سے امریکا کے لیے تجارتی اور صنعتی مشکلات پیدا ہوئیں۔
جنوبی کوریا کے ساتھ امریکا کی مشترکہ جنگی مشقوں پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے انہیں پیسے کا ضیاع قرار دیا اور کہا کہ ان مشقوں کے اخراجات کا بڑا حصہ امریکا برداشت کرتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقیں شمالی کوریا کو نامناسب اور جارحانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔ شمالی کوریا اب امریکا کے لیے خطرہ نہیں اور نہ ہی اس کا رویہ امریکا کے ساتھ غیر دوستانہ ہے۔
امریکی صدر نے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت کی کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ایران کے خلاف امریکا کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وہاں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹادی گئی ہیں یا انہیں ناکارہ بنادیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی مکمل کیے جانے سے آگاہ کیا ہے جب کہ امریکا نے ایران کو خبردار کردیا ہے کہ اگر دوبارہ بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کی گئی تو ایسا کرنے والے ہر جہاز کو تباہ کردیا جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی نافذ ہے اور کسی بھی نئی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی خلائی فوج آبنائے ہرمز کے ایک ایک انچ کی نگرانی کررہی ہے جب کہ پِک ایکس ماؤنٹین اور اس سے قبل تباہ کیے گئے تین جوہری مقامات کی بھی نگرانی جاری ہے۔



















