بنگلا دیش نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کے امکان پر بڑا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا کہ اگر معاہدے کے بانی ممالک بنگلا دیش کو شمولیت کی دعوت دیتے ہیں تو ڈھاکہ اس پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ فی الحال بنگلا دیش کو باضابطہ دعوت نہیں ملی، اس لیے شمولیت کا فیصلہ ابھی زیرِ غور نہیں آیا۔ ان کے مطابق کسی بھی فیصلے سے قبل معاہدے سے ملک اور قوم کو حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا جائے گا۔
خلیل الرحمٰن نے مکہ معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اجتماعی دفاع کا ایک طریقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم برادری کا داخلی معاملہ ہے اور دیگر ممالک کو اس حوالے سے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے امیر اور اپوزیشن رہنما شفیق الرحمٰن نے بھی کہا کہ مکہ معاہدے میں شامل ہونا بنگلا دیش کا اپنا فیصلہ ہے اور اگر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلہ کیا جائے تو کسی دوسرے فریق کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں ہونے والی سہ فریقی سربراہی ملاقات کے دوران ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی سلامتی مضبوط کرنا، دفاعی تعاون بڑھانا اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔ اب بنگلا دیش کی جانب سے ممکنہ شمولیت کے اشارے نے اس دفاعی اتحاد کے دائرہ کار کو مزید وسیع ہونے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔




















