وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں آبادی بڑھتی جارہی ہے یہ ہی سلسلہ جاری رہاتو 2030 تک پاکستان دنیا کا چوتھا بڑاملک بن جائے گا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال قومی اسمبلی اجلاس اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک نےآبادی کےمسئلے پر قابوپایا اور تیزی سےبڑھتی آبادی کوکنٹرول کیا نیوزی لینڈکی آبادی جتناسالانہ اضافہ ہماری آبادی میں ہورہاہے 2035 تک پاکستان کی آبادی 35 کروڑ ہوجائےگی۔
وزیرصحت نے کہا کہ ہرسال دوران زچگی 11ہزارخواتین جاں بحق ہوتی ہیں کوئی دہشت گردی کاواقعہ ہوجائےتوملک میں سوگ ہوتاہے پاکستان میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے اسکولوں سے باہرہیں ہمسایہ ممالک نے اپنی آبادی کوکنٹرول کرلیا ہے اور ان کی گروتھ بھی زیادہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں ہزار سےزیادہ اسپتال چاہئیں ہمیں 2 کروڑ نئےگھر چاہئیں این ایف سی سے پیسوں کا بٹوارا کیا جاتاہے این ایف سی کافارمولہ آبادی کےلحاظ سےہے ہمارے گورننس کےنظام میں فرشتےبھی بٹھادیں توسہولتیں نہیں پہنچ سکتیں۔
،مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام کوبدلےبغیرلوگوں کےگھروں تک سہولتیں نہیں پہنچائی جاسکتیں ہم چاروں وزرائےاعلیٰ کو8ہزار848ارب روپےدےرہےہیں رقم کسی ایک جگہ دےدیں یا8روپےبھی کسی کونہ دیں کراچی کوپیسےنہیں مل رہے،پانی کامسئلہ حل نہیں ہورہا۔
وزیرصحت ہم نے مزید کہا کہ نئی آئینی ترمیم پیش کررکھی ہے اس پرغورکیاجائے ہماری ترمیم سے اختیارات نچلی سطح تک جائیں گے کےفورکی تکمیل کےبعدبھی پانی ٹینکروں میں بکےگا۔
















