ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور جاری سفارتی رابطوں میں پاکستان کے فعال کردار کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متوازن اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا بلکہ فریقین کے درمیان رابطوں کو بھی سہولت فراہم کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بغیر جنگ میں الجھے ایک اہم سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں امن کی راہ ہموار ہوئی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کو عالمی امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کو ایک متحرک ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک نے بھی اس عمل میں پاکستان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ “ہیڈ لائن ڈپلومیسی” پر یقین نہیں رکھتا بلکہ عملی اور خاموش سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکا تنازع کے حوالے سے غیر مصدقہ قیاس آرائیاں خطے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں اس لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ ضروری ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جنیوا میں 19 جون کو ممکنہ طور پر معاہدے پر باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس میں مختلف مسلم اور علاقائی ممالک کی قیادت کو بھی کریڈٹ دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر سفارتی کردار ادا کیا بلکہ مسلم امہ کے درمیان ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کی۔
















