واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا متن جمعہ تک جاری کردیا جائے گا جب کہ وائٹ ہاؤس کی کوشش ہے کہ یہ دستاویز اس سے بھی پہلے عوام کے سامنے لائی جا سکے۔
سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ معاہدے کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جارہی ہیں، اس لیے امریکی عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض ثالث ممالک، خصوصاً قطر اور پاکستان کے حکام نے معاہدے کا متن فوری طور پر جاری نہ کرنے کی درخواست کی تھی تاہم امریکی انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ دستاویز جلد از جلد منظرعام پر لائی جائے تاکہ عوام کو تاریخی معاہدے کی مکمل تفصیلات معلوم ہوسکیں۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اگر تہران اپنے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر روک دیتا ہے تو اسے عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔
ان کے مطابق ایران کو دی جانے والی مراعات کا بنیادی مقصد اس کی معیشت پر عائد پابندیوں میں نرمی اور اقتصادی بحالی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور دیگر معاشی فوائد تہران کے رویے اور معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط ہوں گے جب کہ یہ معاہدہ امریکی عوام کے مفادات کے مطابق ایک بہترین ڈیل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے بھی واضح فریم ورک شامل ہے جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی ترسیل معمول پر آنے لگے گی۔
نائب صدر کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی سپلائی بحال ہونے کے آثار نمایاں ہیں اور آئندہ چند ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
جے ڈی وینس کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ عارضی نوعیت کا تھا اور امریکی حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔ معاہدہ نہ صرف آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے بھی ایک واضح اور مؤثر فریم ورک فراہم کرے گا۔
امریکی نائب صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کے نفاذ سے خطے میں استحکام، عالمی تجارتی سرگرمیوں میں بہتری اور توانائی کی منڈیوں میں مزید اعتماد پیدا ہوگا۔




















