اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیتے ہوئے خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے بڑا فیصلہ جاری کردیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ بلوچستان کی خاتون بی بی آمنہ کے مقدمہ میں جاری کرتے ہوئے کہا کہ وراثت میں خواتین کا حق ریاست کا نہیں بلکہ اللہ تعالی کا بنایا ہوا قانون ہے جب کہ قرآن پاک میں وراثت کے حق کو یقینی بنایا گیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا رجہان ہے، خواتین کو وراثت سے محروم سماجی دباؤ اور فراڈ کے ذریعے کیا جاتا ہے؟۔ عدالتوں کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کی وراثت کے مقدمات کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ کوئی بھی علاقائی روایت یا خاندانی نظام خواتین سے وراثت کا حق نہیں چھین سکتا، خواتین کو وراثت کا حق نہ دینا ملکی قانون اور اللہ تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے درخواست گزار خاتون کے والدین کی تمام جائیدادوں کو شیئرز کے تعین کے لئے سول کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سول کورٹ آئین اور قانون کے مطابق تمام جائیدادوں میں شیئرز کا فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ بی بی آمنہ نامی خاتون نے بھائیوں کی جانب سے پوری جائیداد میں حصہ نہ دینے کا معاملہ چیلنج کر رکھا ہے۔















