سائنس دانوں نے برفانی براعظم (انٹارکٹیکا) کے مشرقی حصے کے نیچے سیکڑوں ایسے زلزلے دریافت کیے ہیں جو ایک ایسے علاقے میں رونما ہورہے ہیں جہاں عام طور پر زلزلوں کی توقع نہیں کی جاتی۔
نئی تحقیق کے مطابق پانچ سو سے زائد زلزلے زمین کی سطح سے بہت گہرائی میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جن کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق زلزلے عموماً زمین کی بڑی چٹانی پرتوں کے سنگم پر پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ زلزلے ایسے علاقے میں سامنے آئے ہیں جو ان حدود سے کافی دور واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہ دریافت ماہرین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
تحقیقی ٹیم نے مشرقی برفانی براعظم (انٹارکٹیکا) میں نصب 49 نگرانی مراکز سے حاصل شدہ معلومات کا جائزہ لیا۔ جدید کمپیوٹر نظام کی مدد سے معمولی ارتعاشات میں سے زلزلوں کی نشاندہی کی گئی جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 510 زلزلے سامنے آئے۔
تحقیق کے مطابق یہ تمام زلزلے ایک بڑے برفانی تودے کے نیچے تقریباً 100 سے 150 کلومیٹر گہرائی میں وقوع پذیر ہوئے۔ ان کی شدت نسبتاً کم تھی تاہم ان کی تعداد اور مقام نے سائنس دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس خطے میں زمین کے اندر موجود مختلف نوعیت کی چٹانی پرتوں کے ملاپ، اندرونی حرارت کے دباؤ اور اوپر موجود برفانی تودوں کے وزن نے مل کر ایسے حالات پیدا کیے ہوں گے جن سے یہ زلزلے جنم لے رہے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ زلزلے صرف معروف چٹانی حدود پر ہی نہیں بلکہ ان سے دور علاقوں میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
تاہم اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ یہ زلزلے صرف ایک مخصوص مقام کے نیچے ہی کیوں مرتکز ہیں جب کہ اسی نوعیت کے حالات دیگر علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
محققین بتاتے ہیں کہ جدید تجزیاتی طریقوں کی بدولت مستقبل میں دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ایسے پوشیدہ زلزلوں کی نشاندہی ممکن ہوسکے گی جس سے زمین کے اندرونی نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔




















