پاکستان میں ایک بڑی جینیاتی تحقیق کے دوران ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد افراد کے جینیاتی نمونوں کا جائزہ لیا گیا جس میں 34 ہزار سے زیادہ ایسے افراد سامنے آئے جن میں بعض جینز مکمل طور پر غیر فعال پائے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت بیماریوں کو سمجھنے، ادویات کی تیاری اور علاج کے نئے طریقوں کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً ہر پانچ میں سے ایک فرد میں کم از کم ایک ایسا جین موجود تھا جو مکمل طور پر غیر فعال تھا جب کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 476 مختلف جینز کی ایسی صورتیں سامنے آئیں۔ یہ تعداد انسانی جسم میں پروٹین بنانے والے جینز کے تقریباً ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ انسانی جسم بعض جینز کے بغیر بھی کس حد تک معمول کے مطابق کام کرسکتا ہے۔
اس سے ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو یہ جانچنے میں آسانی ہوگی کہ کسی مخصوص جین کو روکنے یا غیر فعال کرنے کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
تحقیقی منصوبے میں پاکستان کے 23 شہروں سے افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے جینیاتی نمونوں کے ساتھ طبی تاریخ، بیماریوں اور دیگر طبی معلومات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی ایسی جینی تبدیلیاں دریافت ہوئیں جو پہلے عالمی جینیاتی معلومات کے ذخائر میں موجود نہیں تھیں۔
ماہرین کے مطابق بعض جینز کے غیر فعال ہونے کے باوجود افراد میں کسی بڑی بیماری کی علامات نہیں پائی گئیں جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان جینز کو ہدف بناکر مستقبل میں نسبتاً محفوظ علاج تیار کیے جاسکتے ہیں۔
دوسری جانب چند جینز کے مکمل طور پر غیر فعال ہونے کو گردوں سمیت بعض طبی مسائل سے بھی جوڑا گیا جس سے ممکنہ خطرات کی نشاندہی ہوئی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ جانوروں پر کیے جانے والے تجربات کے نتائج ہمیشہ انسانوں پر یکساں لاگو نہیں ہوتے، اس لیے انسانی جینیاتی معلومات بیماریوں اور ادویات کے بارے میں زیادہ قابلِ اعتماد رہنمائی فراہم کرسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی طبی تحقیق کے لیے بھی اہم سنگ میل ہے جو بیماریوں کے بہتر علاج، ادویات کی حفاظت اور انسانی جینز کے کردار کو سمجھنے میں مدد دے گا۔




















