خوراک کو زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنا ہمیشہ سے انسان کی ضرورت رہی ہے۔ اب جاپان کے سائنس دانوں نے کدو کے چھلکے سے ایسا نیا قدرتی مادہ تیار کیا ہے جو پھلوں اور سبزیوں کو زیادہ دیر تک تازہ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے پلاسٹک اور خوراک کے ضائع ہونے میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
یہ تحقیق جاپان کی کیوشو یونیورسٹی کے محققین نے کی، جس میں سائنس دانوں نے کدو کے بچے ہوئے چھلکوں کو خاص طریقے سے تیار کرکے انہیں انتہائی باریک ذرات (کاربن کوانٹم ڈاٹس) میں تبدیل کیا۔ پھر ان ذرات کو پودوں کے ریشوں اور جیلاٹن کے ساتھ ملا کر ایک نئی پیکنگ تیار کی گئی۔
اس نئی پیکنگ کو چیری ٹماٹروں پر آزمایا گیا اور اس کا موازنہ عام پلاسٹک کی پیکنگ اور بغیر کسی پیکنگ کے کیا گیا۔
20 دن بعد معلوم ہوا کہ کدو کے چھلکے سے بنی پیکنگ نے بغیر پیکنگ کے مقابلے میں ٹماٹروں کو زیادہ دیر تک تازہ رکھا۔ اس نے سورج کی نقصان دہ الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کو بہتر طریقے سے روکا، جراثیم کی افزائش کم کی اور ٹماٹروں میں موجود مفید غذائی اجزا کو زیادہ محفوظ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: پھلوں کے چھلکے: جلد کی خوبصورتی کے لئے بہترین کا انتخاب کیسے کریں؟
البتہ نمی برقرار رکھنے کے معاملے میں عام پلاسٹک کی پیکنگ اب بھی کچھ بہتر ثابت ہوئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نیا مادہ محفوظ ہے اور اس میں زہریلے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کوئی شخص احتیاط کرنا چاہے تو پھل یا سبزی کو دھو کر یا چھیل کر استعمال کر سکتا ہے۔
اس مادے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اسے پیکنگ کے علاوہ اسپرے کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے صرف ضرورت والے حصے کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
چونکہ کدو کا تقریباً 10 سے 12 فیصد حصہ اس کا چھلکا ہوتا ہے اور عموماً اسے پھینک دیا جاتا ہے، اس لیے یہ طریقہ خوراک کے فضلے کو مفید استعمال میں لانے کی ایک اچھی مثال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عام جراثیم کش پیکنگ میں اکثر چاندی یا زنک جیسے دھاتی ذرات استعمال ہوتے ہیں، جو ماحول کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں جبکہ کدو کے چھلکے سے تیار کردہ یہ مادہ قدرتی ہے اور ماحول دوست بھی۔
دنیا بھر میں تقریباً 40 سے 50 فیصد پھل اور سبزیاں صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہیں اس لیے ایسی نئی ٹیکنالوجی خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اب تک اس کا تجربہ صرف چیری ٹماٹروں پر 20 دن تک کیا گیا ہے اس لیے مزید تحقیق کے بعد ہی اسے عام مارکیٹ میں متعارف کرایا جا سکے گا۔
محققین مستقبل میں اس پیکنگ میں مزید قدرتی اجزا شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ پھپھوندی اور دیگر جراثیم سے بھی بہتر حفاظت کر سکے۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس مادے میں موجود باریک ذرات الٹرا وائلٹ (یو وی) روشنی میں چمکتے ہیں۔ سائنس دان امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس خصوصیت کو پیکنگ پر ڈیزائن، تحریر یا نشانات بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔




















