حال ہی میں کی جانے والی ایک منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران اور بچے کی زندگی کے ابتدائی دو برسوں میں کم شکر والی غذا مستقبل میں دماغی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے اور الزائمر سمیت بعض ذہنی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتی ہے۔
اس تحقیق میں برطانیہ کے 60 ہزار سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔
محققین نے برطانیہ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد شکر کی راشن بندی کے دور کو قدرتی تجربے کے طور پر استعمال کیا۔ اس زمانے میں لوگوں کو محدود مقدار میں شکر ملتی تھی، لیکن ستمبر 1953 میں راشن بندی ختم ہوتے ہی شکر کا استعمال تقریباً دوگنا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں:55 سالہ تحقیق میں انکشاف: 100 سال تک جینے کا کوئی ایک راز نہیں، بلکہ کئی عوامل اہم ہیں
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دن یعنی حمل سے لے کر تقریباً دو سال کی عمر تک کم شکر استعمال کی ان میں بعد کی زندگی میں کسی بھی قسم کی ڈیمنشیا کا خطرہ 27 فیصد اور الزائمر کا خطرہ 46 فیصد کم تھا۔

اسی طرح ان افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 11 فیصد اور بے چینی کا خطرہ 20 فیصد کم پایا گیا جبکہ پارکنسن کی بیماری کے خطرے میں کوئی واضح فرق نہیں دیکھا گیا۔
دماغی اسکینز سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کم شکر والی غذا کے ساتھ پرورش پانے والے افراد کے دماغ اوسطاً اپنی اصل عمر کے مقابلے میں تقریباً 0.39 سال زیادہ جوان دکھائی دیے۔ ان کے دماغ کے وہ حصے بھی نسبتاً بڑے تھے جو یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت سے متعلق ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن دماغ کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اسی دوران غذائی عادات مستقبل کی دماغی صحت پر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ تحقیق سبب اور نتیجے کو حتمی طور پر ثابت نہیں کرتی۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف شکر کم کھانے سے الزائمر یا ڈیمنشیا کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ تحقیق دونوں کے درمیان ایک مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس ایک تحقیق کی بنیاد پر طبی ہدایات تبدیل نہیں کی جا سکتیں، لیکن نتائج اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ حمل کے دوران اور بچوں کی ابتدائی عمر میں اضافی شکر کا استعمال محدود رکھنا طویل مدت میں دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔




















