ایچ آئی وی کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی ایک نئی دوا نے انسانوں پر ہونے والے اپنے پہلے آزمائشی مرحلے میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق نئی دوا وائرس کے اس اہم حصے کو نشانہ بناتی ہے جو اس کی افزائش اور جسم میں پھیلاؤ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ اس حصے کو متاثر کرنے سے وائرس کی تعداد میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ادویات کی بدولت ایچ آئی وی اب ایک قابلِ انتظام دائمی بیماری بن چکی ہے لیکن بہت سے مریض اب بھی مختلف ادویات کے باہمی اثرات، علاج پر مسلسل عمل، دواؤں کی برداشت اور علاج تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ نئی دوا ان مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
اس تحقیق میں 23 ایسے بالغ افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے اس سے پہلے ایچ آئی وی کے علاج کے لیے کوئی دوا استعمال نہیں کی تھی۔ شرکا میں سے 20 افراد کو مختلف مقدار میں نئی دوا دی گئی جب کہ 3 افراد کو ایسی گولی دی گئی جس میں مؤثر دوا شامل نہیں تھی تاکہ نتائج کا موازنہ کیا جاسکے۔
تحقیق کے آغاز میں تمام شرکا کے خون میں وائرس کی مقدار کافی زیادہ تھی تاہم 11 دن بعد نئی دوا استعمال کرنے والے تمام افراد میں وائرس کی مقدار میں واضح کمی دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق جن افراد کو دوا کی زیادہ مقدار دی گئی تو ان میں وائرس میں کمی بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی جب کہ دوسری جانب مؤثر دوا سے محروم گروپ میں کوئی نمایاں فرق سامنے نہیں آیا۔
تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ نئی دوا محفوظ ثابت ہوئی اور اس کے سنگین مضر اثرات سامنے نہیں آئے۔ مزید یہ کہ یہ جسم کے اس اہم نظام کو نمایاں طور پر متاثر نہیں کرتی جو دوسری ادویات کے ساتھ ردعمل پیدا کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دوا ایسے مریضوں کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتی ہے جو بیک وقت کئی بیماریوں کی ادویات استعمال کررہے ہوں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور دوا کو عام استعمال کے لیے پیش کرنے سے قبل اس کے بڑے پیمانے پر مزید آزمائشی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوں گے تاکہ اس کی مؤثریت اور حفاظت کی مکمل تصدیق کی جاسکے۔
اگر آئندہ تحقیقات بھی کامیاب رہیں تو یہ دوا ایچ آئی وی کے علاج کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔




















