سندھ حکومت نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کیلئے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے مالی معاونت، مکمل علاج اور مستقل نگہداشت کا اعلان کر دیا۔
صوبائی وزیر سعید غنی کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کو ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی، جس کے تحت ایک متاثرہ بچے کے والدین کو 40 ہزار روپے ماہانہ جبکہ ایک سے زائد بچوں کی صورت میں 80 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔
سعید غنی نے کہا کہ تمام متاثرہ بچوں کو علاج معالجے کی مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ بچوں کے علاج کیلئے اعلیٰ ماہر ڈاکٹروں اور بڑے اسپتالوں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے قائم 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کی نگرانی کیلئے آزاد اور خودمختار بورڈ بنایا جائے گا، جبکہ مستقل نگہداشت کیلئے اسٹینڈنگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔
صوبائی وزیر کے مطابق اب تک 120 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں سے 81 بچے سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ 39 بچے غیر رجسٹرڈ ہیں۔ متاثرہ بچوں کا علاج آغا خان، انڈس اور دیگر بڑے اسپتالوں میں جاری ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ ایچ آئی وی کیس میں ذمہ دار قرار دیے گئے 37 افراد کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہلخانہ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت ان کی فلاح و بہبود کیلئے تمام ممکن اقدامات کرے گی۔




















