کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے گھر کی چھت ہو یا فلیٹ کی بالکونی کبوتروں کی گندگی سے سب ہی تنگ دکھائی دیتے ہیں اور ایسے ہی ایک پریشان شخص نے انہیں دور رکھنے کے لیے ایک پانی پھینکنے والی توپ تیار کی ہے۔
ایک سمجھدار شخص نے اپنی بالکونی پر کبوتروں کے بیٹھنے اور گندگی کرنے سے تنگ آ کر اے آئی سے از خود پانی کی پچکاری مارنے والی توپ تیار کی ہے جو کبوتروں کو تاک کر ان پر پانی پھینکتی ہے۔
کبوتروں کو شہر کے مصروف چوراہوں میں روٹی اور دانے کے لیے لڑتے ہوئے یا آسمان میں ان کی بڑی تعداد کا منظر دیکھنا تو یقیناً خوشگوارلمحہ ہوتا ہے تاہم لوگوں کی بڑی تعداد اس پرندے کو پریشان کن مخلوق سمجھتی ہے اور ان سے چھٹکارا پانا اکثر مشکل ہوتا ہے۔
اس کہانی کے مرکزی کردار نے بھی اپنے بالکونی پر کبوتروں کے بیٹھنے اور گندگی کرنے سے تنگ آ کر ٹیکنالوجی کے ذریعے حل تلاش کیا جو حیرت انگیز طور پر مؤثر ثابت ہوا۔
اس توپ کی تیاری میں ایک الیکٹرک بیٹری سے چلنے والی پانی مارنے والی بندوق، ایک اورنج پائی 5 منی کمپیوٹر، یو ایس بی کیمرہ، اوپن ووکیبلری آبجیکٹ ڈیٹیکشن نیورل نیٹ ورک، یولا ورلڈ وی 21، دو سروا موٹرز، پانی مارنے والے بندوق کو آن کرنے کے لیے ریزسٹر اور ٹرانزسٹر استعمال کیے گئے ہیں۔
سسٹم بالکل سیدھا سادہ سا ہے یو ایس بی کیمرہ کبوتروں کو پہچانتا ہے نیورل نیٹ ورک کبوتروں کو شناخت کرتا ہے دو سروا موٹرز پانی مارنے والی بندوق کو گھماتی ہے اور اسے سیدھا شکار پر فائر کرتی ہے جس سے کبوتربھاگ جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا کلپ جس میں اس حیرت انگیز اور کارآمد اینٹی کبوتر توپ کو دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ کس حد تک مؤثر ہے وائرل ہوگیا اور کئی صارفین نے اسے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے ویڈیو پر تبصرہ کیا کہ یہ شاندار ہے آپ کو چاہیے کہ ایک اصل پروڈکٹ بنائیں مجھے یقین ہے یہ بہت فروخت ہوگا۔
ایک اور صارف نے کہا زبردست! میں بالکل اسی طرح کا آئیڈیا سوچ رہا تھا تاکہ بلیوں کو اپنے لان پر گندگی کرنے سے روک سکوں کیا آپ مزید تفصیلات شیئر کریں گے؟
تاہم اس اے آئی توپ کے مؤجد نے اسے کمرشل بنانے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔




















