Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد ماحول کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچارہے ہیں، نئی تحقیق

ماحولیاتی نقصانات کی سالانہ مالیت تقریباً ایک اعشاریہ سات سے پانچ اعشاریہ سات کھرب ڈالر کے درمیان بنتی ہے۔

ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد ماحولیاتی نقصان میں غیر متناسب کردار ادا کررہے ہیں اور انہیں اس نقصان کے بدلے معاشرے کو کھربوں ڈالر ادا کرنے چاہیے۔

محققین کے مطابق امیر ترین طبقے کی جانب سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کی سالانہ مالیت تقریباً ایک اعشاریہ سات سے پانچ اعشاریہ سات کھرب ڈالر کے درمیان بنتی ہے۔ یہ رقم عالمی سطح پر ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے درکار مالی وسائل سے بھی زیادہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر اس طبقے پر ماحولیاتی محصولات عائد کیے جائیں تو حاصل ہونے والی رقم موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے درکار بڑے منصوبوں میں استعمال کی جاسکتی ہے جب کہ کم آمدنی والے طبقے کی زندگی بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے 2017 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر امیر ترین 10 فیصد افراد کے استعمال، اخراج اور قدرتی وسائل پر اثرات کا جائزہ لیا۔ اس میں فضا میں خارج ہونے والی گیسوں، حیاتیاتی تنوع کے نقصان، پانی کے استعمال اور دیگر ماحولیاتی عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔

تحقیق کے مطابق مجموعی نقصان میں سب سے بڑا حصہ حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا ہے جو تقریباً 47 سے 56 فیصد بنتا ہے جب کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا حصہ 36 سے 45 فیصد کے درمیان ہے۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ امریکا کے امیر ترین 10 فیصد افراد پر سب سے زیادہ ماحولیاتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے ذمے سالانہ ہزاروں ڈالر کے مساوی ماحولیاتی اخراجات بنتے ہیں جب کہ بھارت میں یہ رقم نسبتاً کم ہے۔

محققین نے بتایا کہ مختلف ممالک کے درمیان یہ فرق استعمال، وسائل کے خرچ اور اخراج کی سطح میں تفاوت کی وجہ سے ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی محصولات تمام مسائل کا مکمل حل نہیں تاہم ’’آلودگی پھیلانے والا قیمت ادا کرے‘‘ کے اصول کے تحت یہ نظام ماحول کے تحفظ اور پائیدار طرزِ زندگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

محققین کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ نتائج امیر ترین طبقے کی ذمہ داری کو واضح کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ماحولیاتی نقصانات کے ازالے کے لیے درکار وسائل کہاں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔