برطانیہ کے اسٹارٹ اپ چپ ہر ایکس (ٹیٹو ٹیکنالوجی کمپنی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دنیا کا پہلا ایسا مستقل ٹیٹو سسٹم تیار کر لیا ہے جو تقریباً بغیر درد کے ٹیٹو بنانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
یہ نئی ٹیکنالوجی انتہائی باریک مائیکرو سوئیوں پر مبنی ہے جو جلد میں کم گہرائی میں داخل کر ٹیٹو بناتی ہیں جس سے درد محسوس نہیں ہوتا۔
عام طور پر ٹیٹو بنوانا ایک تکلیف دہ عمل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں سوئیاں بار بار جلد میں داخل کی جاتی ہیں بعض اوقات ایک ہی جگہ پر کئی مرتبہ تاہم چپ ہر ایکس کا کہنا ہے کہ اس کی نئی ٹیکنالوجی اس روایتی عمل کو زیادہ آسان اور تقریباً بے درد بنا سکتی ہے۔

کمپنی کے تیار کردہ اس نئے طریقۂ کار میں ایک خصوصی پیچ جس میں رنگ دار مادے سے بھر پور انتہائی باریک مائیکرو اسٹرکچرز موجود ہوتے ہیں استعمال کیا جاتا ہے پھر اس پیچ کو ایک ایپلیکیٹر کی مدد سے جلد کی بالائی تہہ میں منتقل کر کے تقریباً 15 منٹ تک اپنی جگہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ رنگ مکمل طور پر جلد میں جذب ہو جائے۔
ابتدائی طور پر ٹیٹو کا ڈیزائن جلد پر ہلکا دکھائی دیتا ہے تاہم جیسے جیسے رنگ جلد میں سرایت کرتاہے اس کی گہرائی بڑھتی جاتی ہے اور 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر ڈیزائن واضح ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ طریقہ عارضی ٹیٹو پیچ جیسا محسوس ہوتا ہے لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ٹیٹو مستقل نوعیت کے ہوتے ہیں اور انہیں ہٹانے کے لیے روایتی ٹیٹوز کی طرح لیزر ٹریٹمنٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگرچہ بغیر درد کے مستقل ٹیٹو بنانے کا تصور بہت پرکشش ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے سائز کے ٹیٹو نہیں بنائیں جاسکتے ہیں فی الحال ٹیٹو کا سائز بہت چھوٹا رکھا گیا ہے کیونکہ ڈیزائن صرف 15 ملی میٹر قطر کے دائرے میں ہی بنایا جا سکتا ہے۔
کمپنی اس وقت دل، ایموجیز اور دیگر چھوٹے ڈیزائنز فراہم کر رہی ہے جبکہ مستقبل میں مختلف ٹیٹو آرٹسٹس کے تعاون سے حسبِ خواہش (کسٹم) ڈیزائن بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ فی الحال صرف سیاہ رنگ کے پگمنٹ کی سہولت دستیاب ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں دیگر رنگ بھی متعارف کرائے جائیں گے یا نہیں۔

واضح رہے کہ یہ نئی سروس صرف لندن میں دستیاب ہے اور اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے یا مکمل بازو والے ٹیٹو بنوانا ممکن نہیں تاہم جو افراد چھوٹے مستقل ٹیٹو بنوانا چاہتے ہیں یا سوئیوں کے خوف کی وجہ سے اب تک ٹیٹو نہیں بنوا سکے ان کے لیے کی یہ نئی ٹیکنالوجی ایک دلچسپ متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔




















