سائنس دانوں نے کافی بنانے کے بعد بچ جانے والے کافی کے ذرات سے تیل نکالنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس تیل کو بعد میں بایو ڈیزل جیسے ماحول دوست ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کافی کے بچے ہوئے ذرات میں تقریباً 15 فیصد تیل موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں ایسے اجزا بھی ہوتے ہیں جن سے بایو پلاسٹک، کیمیکلز اور دوسرے قابلِ تجدید ایندھن بنائے جا سکتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا کہ 45 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر 60 منٹ تک ایک خاص سالوینٹ کے ذریعے کافی کے ذرات سے تقریباً 90 فیصد تیل حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ تیل نکالنے کے بعد بچ جانے والے کافی کے ذرات بھی ضائع نہیں ہوتے۔ ان سے بایو ایتھانول، کیمیکلز اور پائیدار ہوابازی کے ایندھن سمیت کئی دوسری مفید چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔
حاصل ہونے والا تیل بھی کافی صاف تھا جس سے اسے ایندھن میں تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق مستقبل میں کافی کے بچے ہوئے مادے سے ایسی بایو ریفائنریاں بنائی جا سکتی ہیں جہاں ایک ہی فضلے سے تیل، ایندھن اور مختلف کیمیائی مصنوعات تیار ہوں۔
یعنی جو کافی کے ذرات ہم عام طور پر کچرے میں پھینک دیتے ہیں، وہ دراصل توانائی اور مفید مصنوعات کا ایک قیمتی ذریعہ ہو سکتے ہیں۔




















