Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کانگو؛ ایبولا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بڑی کمی ریکارڈ

31 مئی تک 321 تصدیق شدہ اور 116 مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں، عالمی ادارہ صحت

کانگو میں پھیلنے والے ایبولا وائرس کے حالیہ پھیلاؤ سے متعلق عالمی ادارۂ صحت نے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مشتبہ مریضوں کی تعداد اب 116 رہ گئی ہے جب کہ پہلے یہ تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جارہی تھی۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 31 مئی تک 321 تصدیق شدہ اور 116 مشتبہ مریض سامنے آئے ہیں جب کہ اب تک 48 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

ادارے کے ترجمان نے بتایا کہ مشتبہ مریضوں کی تعداد میں بڑی کمی کی وجہ طبی معائنے اور جانچ کا عمل ہے جس دوران بیشتر افراد میں ایبولا وائرس کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ ان میں سے کئی افراد دیگر بیماریوں یا معمولی بخار میں مبتلا تھے۔

ماہرین کے مطابق اس بار پھیلنے والا وائرس ایبولا کی کم پائی جانے والی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کے باعث صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں کیونکہ اس مخصوص قسم کے لیے فی الحال کوئی مؤثر ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔

کانگو کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ اور دور دراز علاقوں میں بیماری پر قابو پانے کے لیے مریضوں کی بروقت شناخت، فوری علیحدگی، متاثرہ افراد سے رابطے میں آنے والوں کی نگرانی، محفوظ تدفین اور طبی مراکز میں احتیاطی اقدامات کو مضبوط بنانا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے مشرقی کانگو کے شہر بونیا کے دورے کے دوران بتایا کہ ایبولا کی اس نایاب قسم میں مبتلا پانچ مریض مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ علاج اور حفاظتی ویکسین پر کام جاری ہے تاہم اس بیماری سے صحت یابی ممکن ہے۔

دوسری جانب وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والے عالمی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ ایبولا کی موجودہ قسم کے خلاف تیار کیے جانے والے تین ممکنہ حفاظتی ویکسین کی تیاری کا عمل تیز کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے 5 کروڑ 30 لاکھ یورو تک سرمایہ کاری کی جائے گی۔

عالمی ادارۂ صحت نے ان تینوں ممکنہ حفاظتی ویکسین کو ایبولا کے خلاف جاری تحقیق میں سب سے امید افزا قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں