Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

انسان کی متوقع عمر کا اندازہ لگانے والی گھڑی سامنے آگئی

اب تک عمر بڑھنے کی رفتار جانچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔

سائنس دانوں نے ایک نئی حیاتیاتی گھڑی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو جسم میں عمر بڑھنے کے عمل کا جائزہ لے کر کسی شخص کی متوقع زندگی اور موت کے خطرے کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اب تک عمر بڑھنے کی رفتار جانچنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے رہے ہیں لیکن نئی تحقیق میں ایسا نظام تیار کیا گیا ہے جو جسم کے اندر موجود جینیاتی سرگرمیوں کا تجزیہ کرکے حیاتیاتی عمر کا زیادہ مؤثر انداز میں تعین کرتا ہے۔

تحقیق کے دوران انسانوں سمیت چار مختلف جانداروں کے 11 ہزار سے زائد نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے میں دیکھا گیا کہ کون سے جین زیادہ فعال ہیں اور کون سے کم کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے اندر یہ سرگرمیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ایسے جین جو خلیوں کی صحت مند تقسیم اور زخم بھرنے جیسے عمل سے وابستہ ہیں، نسبتاً سست عمر رسیدگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس خلیاتی نقصان اور جسمانی سوزش سے تعلق رکھنے والے جین تیز عمر رسیدگی اور بڑھتی ہوئی حیاتیاتی عمر کا اشارہ دیتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی حیاتیاتی گھڑی نہ صرف عمر بڑھنے کی رفتار کا اندازہ لگانے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ دائمی بیماریوں اور موت کے خطرات کی نشاندہی میں بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق انسانوں کے خون کے نمونوں پر کیے گئے تجربات میں یہ نظام زندگی کی متوقع مدت کے اندازے میں پہلے سے موجود کئی طریقوں کے برابر یا بعض صورتوں میں بہتر نتائج دینے میں کامیاب رہا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مختلف ادویات، طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور صحت سے متعلق اقدامات کے اثرات جانچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ معلوم کرنا آسان ہوگا کہ کون سی عادات یا علاج عمر بڑھنے کے عمل کو سست یا تیز کرتے ہیں۔

تاہم محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ نظام کسی فرد کی موت کی درست تاریخ یا وقت نہیں بتاسکتا بلکہ صرف جسمانی صحت اور عمر رسیدگی کے عمل کی بنیاد پر ممکنہ اندازہ فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق مزید تحقیق کے بعد یہ طریقہ عمر رسیدگی اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔