Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نوجوان خواتین میں ذیابیطس کی شرح میں نمایاں اضافہ، حمل کے بعد نگرانی کی کمی بڑا سبب قرار

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 2017 سے 2024 کے دوران کم عمر خواتین میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ حمل کے بعد مناسب طبی نگرانی کی کمی قرار دی جا رہی ہے۔

برطانوی جریدے ’ڈائیبٹیز یوکے‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 40 سال سے کم عمر خواتین میں ذیابیطس ٹائپ 2 کی تشخیص میں 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ 40 سے 79 سال کی عمر کی خواتین میں یہ شرح 22 فیصد بڑھی ہے۔ اسی عرصے میں نوجوان مردوں میں بھی 34 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے دل کے دورے اور فالج جیسے خطرناک امراض کا خدشہ بھی جلد پیدا ہو سکتا ہے۔

حمل کے بعد نگرانی کی کمی اہم وجہ قرار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حمل کے دوران ہونے والی ذیابیطس (Gestational Diabetes) اس اضافے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس کیفیت کا شکار خواتین میں بعد کے چند برسوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 ہونے کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، تاہم ان کی باقاعدہ نگرانی اور علاج میں واضح کمی پائی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق حمل کے دوران ذیابیطس کے بعد 5 سال میں 11 فیصد خواتین میں ابتدائی شوگر کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔10 سال میں 15 فیصد خواتین میں مستقل ذیابیطس ٹائپ 2 ہو جاتی ہے۔

صرف 57 فیصد خواتین کو سالانہ خون میں شوگر کے مخصوص ٹیسٹ کی سہولت ملتی ہے جبکہ 33 فیصد سے زائد خواتین نے بتایا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد اِنہیں طبی نظام کی جانب سے نظر انداز کیا گیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران ذیابیطس کے بعد مناسب نگرانی، طرزِ زندگی میں بہتری اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

طبی ماہرین نے صحت کے نظام میں بہتری اور خاص طور پر کم آمدنی اور اقلیتی طبقات تک بہتر رسائی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں