فرانس میں ایبولا وائرس کا پہلا تصدیق شدہ مریض سامنے آگیا ہے جو رواں سال جاری وبا کے دوران افریقی براعظم سے باہر رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔
متاثرہ شخص جمہوریہ کانگو سے واپس آنے والا ایک ڈاکٹر ہے جسے پیرس پہنچنے کے فوراً بعد طبی نگرانی میں لے لیا گیا ہے۔
فرانسیسی وزارتِ صحت کے مطابق مذکورہ ڈاکٹر منگل کے روز کنشاسا سے مسافر طیارے کے ذریعے پیرس پہنچا۔ سفر کے آغاز پر اس میں بیماری کی واضح علامات موجود نہیں تھیں تاہم اسے سر درد کی شکایت تھی۔
وزارتِ صحت نے بتایا کہ دورانِ پرواز اس کی طبی حالت میں معمولی تبدیلی آئی جس کے بعد حکام نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے اسے فوری طور پر قرنطینہ کردیا۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ مریض کی حالت مستحکم ہے اور اس کے جسم میں وائرس کی مقدار بہت کم پائی گئی ہے۔ طیارے میں موجود دیگر مسافروں کی تفصیلات بھی متعلقہ اداروں کو فراہم کردی گئی ہیں جب کہ چند افراد کو احتیاطاً الگ نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
فرانسیسی حکام نے صورتحال پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے تاہم وزارتِ صحت کا مؤقف ہے کہ بیماری کے عام آبادی میں پھیلنے کا خطرہ فی الحال کم ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی سطح پر خطرات محدود ہیں۔
متاثرہ ڈاکٹر ایک بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم سے وابستہ ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ڈاکٹر وائرس سے کیسے متاثر ہوا کیونکہ متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے لیے خصوصی احتیاطی مدت مقرر ہوتی ہے۔
جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی موجودہ وبا کا اعلان 15 مئی کو مشرقی صوبے ایتوری میں پراسرار اموات کے بعد کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کانگو میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ 267 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دور دراز علاقوں میں بیماری کی اصل صورتحال سرکاری اعداد سے زیادہ سنگین ہوسکتی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق موجودہ وبا پھیلانے والی وائرس کی قسم کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں تاہم عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس کی محدود منتقلی کی صلاحیت کے باعث اس کے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر پھیلنے کے امکانات کم ہیں۔




















