آپ نے اکثر یہ بات سنی ہوگی کہ کل کی فکر میں اپنا آج برباد مت کریں اور اسے بھرپور طریقے سے گزاریں کیونکہ یہ فکر کی صحت کو متاثر کر سکتی تاہم اب ایک تحقیق سے بھی اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق آج آپ اپنی زندگی کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں اس کا اثر کئی دہائیوں تک آپ کی ذہنی اور مجموعی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کافی عرصے سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خوشی، ذہنی سکون اور زندگی سے اطمینان وقت کے ساتھ کیسے بدلتے ہیں۔ کیا انسان کی ذہنی کیفیت ہمیشہ تقریباً ایک جیسی رہتی ہے، یا زندگی کے مختلف مراحل میں اس میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟
نئی تحقیق میں 2,420 افراد کے تقریباً 25 سال کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے لوگوں کی زندگی سے اطمینان، خود کو قبول کرنے، مثبت سوچ، دوسروں کے ساتھ تعلقات اور اپنی زندگی پر قابو رکھنے کے احساس جیسے عوامل کا جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہتر ذہنی صحت کے لیے بچوں کو اس کام سے ہرگز نہ روکیں
تحقیق میں لوگوں کی ذہنی کیفیت کے چار مختلف انداز سامنے آئے:
تقریباً 60 فیصد افراد کی ذہنی کیفیت 25 سال تک زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ تاہم ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کی ذہنی کیفیت مسلسل کم رہی جبکہ 30 فیصد افراد نے کم ذہنی خوش حالی سے آغاز کیا لیکن وقت کے ساتھ ان کی کیفیت بتدریج بہتر ہوتی گئی۔
اسی طرح تقریباً 8 فیصد افراد شروع میں بہت اچھی ذہنی کیفیت رکھتے تھے لیکن ان میں وقت کے ساتھ نمایاں کمی آئی تاہم تقریباً 2 فیصد افراد نے بہت کم ذہنی خوش حالی سے آغاز کیا اور بعد میں ان میں بہتری آئی، اگرچہ ان میں سے کچھ لوگ اس بہتری کو برقرار نہیں رکھ سکے۔
سب سے اہم بات
محققین کے مطابق تحقیق کے آغاز میں کسی شخص کی ذہنی کیفیت اس بات کا سب سے اہم اشارہ تھی کہ آنے والے برسوں میں اس میں کس طرح تبدیلی آئے گی۔ خاص طور پر جن لوگوں کی ذہنی کیفیت شروع میں کم تھی اور جن میں ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں ان میں بعد میں بہتری کے امکانات زیادہ تھے۔
تحقیق میں ایک حوصلہ افزا بات یہ سامنے آئی ہے کہ جن افراد میں شروع میں ذہنی خوش حالی کم اور ڈپریشن کی علامات زیادہ تھیں ان میں سے 57 فیصد افراد کی ذہنی کیفیت 25 سال کے دوران بہتر ہوئی۔
اگر آج آپ ذہنی طور پر مشکل وقت سے گزر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی ذہنی کیفیت وقت کے ساتھ بہتر بھی ہو سکتی ہے۔ مستقبل کی صورتحال آج کی کیفیت سے مختلف ہو سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ذہنی کیفیت میں تبدیلی کے مختلف انداز کو سمجھنے سے ماہرین کو یہ فیصلہ کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ کس شخص کو کب علاج یا مدد کی ضرورت ہے۔




















