وزن کم کرنا ہو یا ذیابیطس میں خون میں گلوکوز کو توازن رکھنا ماہرین صحت غذائی ترتیب کو خاص اہمیت دیں رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ رجحان تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ اس طریقۂ کار میں کھانے کا آغاز سبزیوں سے کیا جاتا ہے، اس کے بعد پروٹین اور چکنائی جبکہ کاربوہائیڈریٹس آخر میں کھائے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھانے کی اس ترتیب سے کھانے کے بعد خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے، بھوک کو بہتر انداز میں قابو کرنے اور ممکنہ طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد ابھی محدود ہیں، اگرچہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا قرار دیے جا رہے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس موضوع پر ہونے والی بیشتر تحقیقات چھوٹے پیمانے پر کی گئی ہیں تاہم ان کے نتائج بالخصوص ٹائپ 2 ذیابیطس اور پری ڈائیبیٹیز کے شکار افراد میں بڑی حد تک یکساں رہے ہیں۔
2023 میں شائع ہونے والے ایک سائنسی جائزے میں شامل 11 مطالعات کے مطابق جب کاربوہائیڈریٹس کھانے کے آخر میں استعمال کیے گئے تو انہیں کھانے کے آغاز میں لینے کے مقابلے میں خون میں شوگر کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح 2019 میں ڈاکٹر البانا شوکلا کی سربراہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں پری ڈائیبیٹیز کے شکار 15 افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں جب شرکاء نے پہلے چکن اور سلاد کھایا اور بریڈ آخر میں استعمال کی تو کھانے کے بعد خون میں شوگر کا اضافہ، بریڈ پہلے کھانے کے مقابلے میں تقریباً 46 فیصد کم رہا۔
ماہرین کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہے کہ پروٹین، چکنائی اور فائبر معدے سے خوراک کے اخراج کی رفتار کو سست کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کاربوہائیڈریٹس سے حاصل ہونے والی شوگر خون میں نسبتاً آہستہ جذب ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈا یا ایوکاڈو، پروٹین کے لیے بہتر انتخاب کون سا؟
امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن سمیت ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کی ترتیب خاص طور پر پری ڈائیبیٹیز یا ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے ایک مفید حکمتِ عملی ثابت ہوسکتی ہے۔ ابتدائی تحقیق میں یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اس کا اثر بعض ذیابیطس ادویات سے ملتا جلتا ہوسکتا ہے، تاہم اس دعوے کی تصدیق کے لیے مزید اور بڑے پیمانے کی تحقیق درکار ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت مند افراد کے لیے کھانے کی ترتیب کو لے کر ضرورت سے زیادہ سختی اختیار کرنا ضروری نہیں کیونکہ صحت مند جسم عام طور پر کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح کو خود منظم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم سبزیوں یا پروٹین سے کھانے کا آغاز کرنے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہنے کا احساس ہوسکتا ہے کیونکہ یہ غذائیں کاربوہائیڈریٹس کے مقابلے میں نسبتاً آہستہ ہضم ہوتی ہیں۔ اس ترتیب سے جی ایل پی -1 ہارمون میں بھی معمولی اضافہ ہوسکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا اثر وزن کم کرنے والی جی ایل پی -1 ادویات کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔
کھانے کی یہ حکمتِ عملی بعض افراد کو زیادہ سبزیاں اور پروٹین استعمال کرنے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے اور زیادہ کیلوریز والے سادہ کاربوہائیڈریٹس کے استعمال میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کھانے کی ترتیب کو ضرورت سے زیادہ سخت اصول بنا لینا بعض افراد میں غذائی اضطراب یا کھانے سے متعلق خرابیوں کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ غذائی ترتیب شوگر کنٹرول میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے ایک مفید اضافی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے،لیکن اسے ہر شخص کے لیے لازمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مجموعی طور پر متوازن، متنوع اور صحت بخش غذا کا استعمال کھانے کی ترتیب سے کہیں زیادہ اہم ہے۔




















