سائنسدان طویل عرصے سے اس بات پر تحقیق کر رہیں ہیں کہ دماغ کو کس طرح عمر بھر جواں رکھا جاسکتا ہے تاہم اب یہ راز ان کے ہاتھ لگ گیا اور وہ کوئی غذا یا طرز زنگی نہیں بلکہ ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل کرنا ہے۔
حال ہی کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق متعدد زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں نسبتاً کم عمر دکھائی دے سکتا ہے۔ تحقیق میں چار زبانیں بولنے والے افراد کے دماغی عمر کے اندازے میں یک لسانی افراد کے مقابلے میں تقریباً 13 سال تک کا فرق دیکھا گیا۔
یہ تحقیق اسپین کے باسک سینٹر فار کاگنیشن، برین اینڈ لینگویج کی ڈاکٹر لوسیا اموروسو کی سربراہی میں کی گئی جس میں چلی کی ایڈولفو ایبانیز یونیورسٹی، ارجنٹائن کی یونیورسٹی آف سان آندریس اور آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین نے بھی حصہ لیا۔ تحقیق کے نتائج یورپی فیڈریشن آف نیورو سائنس سوسائٹیز (ایف ای این ایس) کے فورم میں پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جلد سے مس ہوکر دل، دماغ اور پٹھوں کی سرگرمی نوٹ کرنے والا انقلابی الیکٹرانک ٹیٹو
تحقیق کے لیے اسپین کے باسک خطے سے تعلق رکھنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا جہاں ہسپانوی، باسکی، فرانسیسی اور انگریزی سمیت ایک سے چار زبانیں بولنے والے افراد موجود ہیں۔
محققین نے پہلے 728 افراد کے دماغی سرگرمی کے نمونوں کا جائزہ لے کر دماغی عمر کا ایک ماڈل تیار کیا۔ اس مقصد کے لیے میگنیٹو اینسیفالوگرافی (ایم ای جی) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جو دماغی سرگرمی کے دوران پیدا ہونے والے انتہائی کمزور مقناطیسی میدانوں کو ریکارڈ کرتی ہے۔
بعد ازاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اس ماڈل کو 144 افراد کے ایک الگ گروپ پر لاگو کیا گیا تاکہ ان کی اندازاً دماغی عمر معلوم کی جاسکے۔
نتائج کے مطابق دو زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ایک زبان بولنے والوں کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً چھ سال کم عمر دکھائی دیا جبکہ تین زبانیں بولنے والوں میں یہ فرق تقریباً سات سال تھا۔ اسی طرح چار زبانیں بولنے والے افراد کے دماغ کی اندازاً عمر ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں تقریباً 13 سال کم نکلی۔
تحقیق کے مطابق دماغی عمر پر صرف زبانوں کی تعداد ہی اثرانداز نہیں ہوتی بلکہ زبان سیکھنے کی عمر اور اس میں مہارت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جن افراد نے دوسری زبان کم عمری میں سیکھنا شروع کی اور اس پر زیادہ عبور حاصل کیا ان میں نسبتاً کم دماغی عمر کا تعلق زیادہ نمایاں تھا۔
ڈاکٹر لوسیا اموروسو کے مطابق کثیر لسانی افراد کا دماغ ان کی حقیقی عمر کے لحاظ سے توقع سے زیادہ کم عمر دکھائی دے سکتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ اس تعلق کی نوعیت اور اس کے ممکنہ فوائد کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
تحقیقی ٹیم اب یہ جاننے کا ارادہ رکھتی ہے کہ آیا کثیر لسانی ہونے کا یہی تعلق الزائمر سمیت اعصابی تنزلی کی بیماریوں میں مبتلا افراد میں بھی پایا جاتا ہے۔
محققین یہ بھی جانچنا چاہتے ہیں کہ آیا ایک دوسرے سے ملتی جلتی زبانیں بولنے سے دماغ پر زیادہ مضبوط اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف زبانوں کے درمیان بار بار تبدیلی کے دوران دماغ کو بیک وقت متعدد لسانی نظاموں اور ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے الفاظ کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے، جو ممکنہ طور پر دماغی سرگرمی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تحقیق کے نتائج زبانیں سیکھنے اور دماغی صحت کے درمیان ایک دلچسپ تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم یہ ثابت نہیں کرتے کہ زیادہ زبانیں سیکھنا براہِ راست دماغ کو اتنے ہی سال ’’جوان‘‘ کر دیتا ہے۔




















