Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

شوہر کو بیوی کی جاسوسی کے لیے روبوٹ ویکیوم استعمال کرنا مہنگا پڑ گیا

شوہر نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ دائر کر کے 20 لاکھ تائیوانی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا

 بیوی کی مبینہ بے وفائی کی ویڈیو بنانے کے لیے روبوٹ ویکیوم کلینر کا سہارا لینے والے شخص کو خود قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

تائیوانی میڈیا کے مطابق ایک شخص نے اپنی بیوی کی مبینہ بے وفائی کے شواہد جمع کرنے کے لیے گھر میں موجود روبوٹ ویکیوم کلینر کو موبائل ایپ کے ذریعے دور سے فعال کیا تاہم اس دوران اس نے بیوی کو ایک شخص کے ساتھ دیکھا اور ویکیوم کلینر میں نصب کیمرے سے دونوں کی ویڈیو ریکارڈ کرلی۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص کی 2021 میں شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے والدین کے گھر رہتا تھا جبکہ تعطیلات گزارنے کے لیے ان کے پاس ایک الگ گھر بھی تھا۔

2023 میں تعطیلات کے دوران شوہر کو گھر سے ایک اجنبی ٹوتھ برش ملا جس کے بعد اسے اپنی اہلیہ کی وفاداری پر شک ہوا۔ اس نے پارکنگ گیراج کے سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج چیک کی تو ایک شخص کو اس کی بیوی کو کام سے گھر چھوڑتے ہوئے دیکھا۔

شوہر کے سوال کرنے پر بیوی نے کسی غیر ازدواجی تعلق سے انکار کیا تاہم تقریباً تین ماہ بعد شوہر کو معلوم ہوا کہ اس کی اہلیہ واقعی کسی دوسرے شخص کے ساتھ تعلق میں تھی۔

بعد ازاں شوہر نے اپنی بیوی کے خلاف مقدمہ دائر کر کے 20 لاکھ تائیوانی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا۔ عدالت نے بیوی اور اس کے دوست کو مجموعی طور پر 5 لاکھ تائیوانی ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

تاہم معاملہ اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گیا جب بیوی نے بھی شوہر کے خلاف جوابی مقدمہ دائر کردیا۔ عدالت میں پیش کی گئی روبوٹ ویکیوم سے بنائی گئی ویڈیو جہاں بیوی کی بے وفائی کا ثبوت بنی، وہیں شوہر کی جانب سے دونوں افراد کی اجازت کے بغیر نجی ویڈیو ریکارڈ کرنے کا ثبوت بھی بن گئی۔

یہ بھی پڑھیں: یہ عام عادات شادی شدہ زندگی کو زیادہ خوشگوار بنا سکتی ہیں

شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ بیوی کی بے وفائی کا پتا لگانے کے لیے اس کا اقدام جائز تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اسے بیوی یا دوسرے شخص کی رضامندی کے بغیر ان کی نجی سرگرمیوں کی ویڈیو ریکارڈ کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔

تائیوانی قانون کے تحت کسی شخص کی رضامندی یا اطلاع کے بغیر اس کی نجی سرگرمیوں یا معلومات کو ریکارڈ کرنا یا افشا کرنا قابلِ سزا جرم ہے، جس پر تین سال تک قید اور 3 لاکھ تائیوانی ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔