پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکاروں نے حسن خیل کے علاقے میں خوارجی عناصر کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا جس میں مجموعی طور پر 6 اہلکار وطن پر قربان ہو گئے۔
شہید ہونے والوں میں نائیک عامر، لانس نائیک محمد یوسف، لانس نائیک محمد ریاض، اور سپاہی اجمیر، احسان اور ریاض شامل ہیں۔ اہلکاروں نے فیلڈ میں دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
شہداء کی نماز جنازہ فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پشاور میں ادا کی گئی جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے شرکت کی۔
اس موقع پر اعلیٰ عسکری و سول حکام بھی موجود تھے جن میں آئی جی فرنٹیئر کور نارتھ، آئی جی خیبرپختونخوا پولیس، آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اے، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پشاور سمیت دیگر افسران شامل تھے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، ان کے حوصلے کو سراہا اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے تمام جائز حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز اور مؤثر بنائی جائیں گی۔
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
















