لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے نیب کی جاری انکوائری میں بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں اربوں روپے مالیت کے پلاٹوں سے متعلق سنگین بے قاعدگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق منصوبے میں مجموعی طور پر 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے پلاٹ اسکینڈل کی نشاندہی ہوئی ہے جس کے بعد معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے تقریباً 9 ہزار غیر قانونی پلاٹس منسوخ کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔ ان میں 3 سے 4 ہزار کمرشل پلاٹس بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعدد ہاؤسنگ اسکیموں میں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں اضافی پلاٹس تیار کیے گئے جبکہ گرین بیلٹس، سروس روڈز اور اوپن اسپیسز پر بھی مبینہ طور پر تجاوزات کر کے پلاٹنگ کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق اس مبینہ بے ضابطگی کے باعث سرکاری خزانے کو کم از کم 14 ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہزاروں کمرشل پلاٹس منظوری کے برعکس غیر قانونی طور پر تخلیق کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی آڈٹ ٹیم نے بھی منصوبے میں مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اسی سلسلے میں متنازع پلاٹس کی تفصیلی فہرست تیار کر کے منسوخی کے لیے متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔
نیب حکام کے مطابق انکوائری جاری ہے اور مزید اہم پیش رفت آئندہ دنوں میں سامنے آنے کا امکان ہے۔
















