Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کور کمانڈرز کانفرنس؛ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی، افغان سرزمین کا استعمال اور سندھ طاس معاہدے پر دوٹوک مؤقف

ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے، فیلڈ مارشل

راولپنڈی: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کی زیر صدارت 276 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں قومی سلامتی، دہشت گردی، علاقائی صورتحال اور دفاعی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کانفرنس کے شرکاء نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی جب کہ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں ہمیشہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کی بنیاد رہیں گی۔

فورم نے افغان طالبان رجیم کے زیر تسلط علاقوں سے پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپوں کی منصوبہ بندی اور مسلسل کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

شرکاء نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان کے زیر تسلط علاقوں میں بھارتی پراکسیوں کی سرگرمیوں کا مؤثر سدباب کیا جائے۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کی خودساختہ قیادت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے زیر تسلط زمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو جب کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

فورم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بہترین طرزِ حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے جو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی پشت پناہی میں پنپنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو بھی ختم کرے۔

فورم کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دشمن ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم بیرونی مدد سے انتشار پیدا کرنے کی ہر ایسی کوشش کو بلا امتیاز اور سختی سے کچلا جائے گا۔

کور کمانڈرز کانفرنس نے علاقائی استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔

اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق دیے گئے بیانات کا بھی نوٹس لیا گیا۔

شرکاء نے واضح کیا کہ اس معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایات مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں جب کہ افواجِ پاکستان حکومتی ہدایات اور عوام کی امنگوں کے مطابق پاکستان کے جائز پانی کے حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات سے ہرگز گریز نہیں کریں گی۔

کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور خطے میں پائیدار امن کا انحصار اس بات پر ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت فراہم کیا جائے۔

اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تمام کور کمانڈرز کو ہدایت کی کہ جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کے پیش نظر ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ہر قیمت پر پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں