Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار

کالعدم ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملے کر رہی ہے,نائب وزیراعظم

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے افغان سرزمین سے سرگرم ہیں۔

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کی سلور جوبلی تمام رکن ممالک کے لیے باعث فخر ہے، جبکہ کرغزستان نے اجلاس کی بہترین میزبانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرغزستان شنگھائی فائیو کا بانی رکن ہے اور ایس سی او کی ترقی میں مسلسل اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے بقول، ایس سی او امن، سلامتی، استحکام، اقتصادی روابط اور ثقافتی تعاون کے فروغ کا مؤثر پلیٹ فارم بن چکی ہے، جبکہ رکن ممالک کے درمیان تجارت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایس سی او دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف مؤثر تعاون کو فروغ دے رہی ہے اور عالمی قوانین پر عملدرآمد، اچھی ہمسائیگی اور علاقائی استحکام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

افغانستان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں جبکہ افغان طالبان ان گروہوں کو سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم بھی افغان سرزمین سے دہشت گرد سرگرمیوں کی نشاندہی کر چکی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملے کر رہی ہے اور رواں سال دو ہزار سے زائد دہشت گرد حملوں میں 560 سے زائد پاکستانی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کے مبینہ ملوث ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او کو نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید مضبوط بنانا ہوگا اور ایس سی او ڈیولپمنٹ اسٹریٹجی 2035 میں ڈیجیٹل شمولیت کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے فرق میں کمی، توانائی سلامتی پر توجہ اور تاپی گیس پائپ لائن، کاسا-1000 جیسے علاقائی منصوبوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

نائب وزیراعظم نے رکن ممالک کے درمیان قومی کرنسیوں میں تجارت اور ادائیگیوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کو افغان طالبان پر انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے بھی زور دینا چاہیے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے کہا کہ تنازعات کا مستقل حل مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوئے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کے اظہار پر شکریہ بھی ادا کیا۔

متعلقہ خبریں