فٹبال کی دنیا میں ایک غیر معمولی اور جذباتی منظر اُس وقت سامنے آیا جب ناروے کی قومی ٹیم نے فیفا ورلڈکپ 2026 جیسے بڑے ایونٹ میں ایک ایسا ریکارڈ قائم کر دیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
ناروے وہ پہلی ٹیم بن گئی ہے جس کے ایک ہی میچ میں تین کھلاڑی ایسے میدان میں اترے جن کے والد بھی کبھی ورلڈکپ کھیل چکے ہیں۔ یہ منفرد لمحہ منگل کے روز عراق کے خلاف میچ میں دیکھنے کو ملا جہاں ایرلنگ ہالینڈ، الیگزینڈر سورلوتھ اور کرسٹین تھورسٹویڈٹ نے قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج سے 32 سال قبل، 1994 کے ورلڈکپ میں بھی یہی تاریخ کسی حد تک دہرائی گئی تھی جب ان کھلاڑیوں کے والد الف انگ ہالینڈ، گوران سورلوتھ اور ایرک تھورسٹویڈٹ نے ایک ساتھ اٹلی کے خلاف میدان میں اتر کر اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔
اس بار کہانی میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب ایرلنگ ہالینڈ نے اپنے پہلے ورلڈکپ میچ کو یادگار بناتے ہوئے دو شاندار گول اسکور کیے جس کی بدولت ناروے نے عراق کو 1-4 سے شکست دے دی۔
یہ مقابلہ نہ صرف اسکور لائن کے لحاظ سے یادگار رہا بلکہ نسلوں کے تسلسل اور کھیل سے جڑی خاندانی روایت کی ایک انوکھی مثال بھی بن گیا جس نے فٹبال شائقین کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔


















