Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

برطانیہ کا بھی بڑا فیصلہ، 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے دروازے بند

اس فیصلے کے اثرات بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں، ماہرین

برطانیہ نے بھی دیگر ملکوں کی طرح بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جسے ماہرین ایک ڈیجیٹل انقلاب قرار دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس فیصلے کو ملک کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن لمحہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ بچوں کو آن لائن خطرناک مواد، ذہنی دباؤ اور حد سے زیادہ اسکرین ٹائم سے بچانے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ سخت محاذ آرائی تک جانے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی حفاظت کسی بھی قیمت پر اولین ترجیح ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک پہلے ہی سوشل میڈیا کے لیے عمر کی حد بندیوں پر سخت قوانین لا رہے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، برازیل اور انڈونیشیا اس سے پہلے اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کر چکے ہیں جبکہ فرانس، اسپین، ڈنمارک، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا بھی اسی سمت میں قانون سازی کے مراحل میں ہیں۔

برطانوی حکومت نے اگرچہ واضح نہیں کیا کہ کن ایپس پر مکمل پابندی ہوگی، تاہم ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر براہِ راست پڑ سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ ہم بچوں کے تحفظ کے ساتھ کھڑے ہیں یا صرف پرانی پالیسیوں کے ساتھ چپکے رہنا چاہتے ہیں اور برطانیہ نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔

متعلقہ خبریں