Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جلد سے مس ہوکر دل، دماغ اور پٹھوں کی سرگرمی نوٹ کرنے والا انقلابی الیکٹرانک ٹیٹو

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دماغ کے ای ای جی، دل کے ای سی جی اور پٹھوں کے ای ایم جی سگنلز کی مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔

سائنس دانوں نے ایک نئی قسم کے الیکٹرانک عارضی ٹیٹو تیار کیے ہیں جو جلد پر پینٹ کی طرح لگائے جا سکتے ہیں اور دل، دماغ اور پٹھوں کی سرگرمی کو بغیر تکلیف یا جلن کے مسلسل مانیٹر کر سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکہ کی پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے محققین کے مطابق روایتی دھاتی یا ہائیڈروجل الیکٹروڈز جلد سے اکھڑ جاتے ہیں یا پسینے اور حرکت کی وجہ سے درست کام نہیں کرتے جبکہ نئے الیکٹرانک ٹیٹو جلد کے ساتھ اچھی طرح چپک جاتے ہیں اور زیادہ درست نتائج فراہم کرتے ہیں۔

یہ خاص سیاہی (کنڈکٹیو اِنک) جلد پر پینٹ کی طرح لگائی جاتی ہے اور تقریباً 10 منٹ میں خشک ہو جاتی ہے۔ خشک ہونے کے بعد یہ اپنی اصل لمبائی سے تقریباً 150 فیصد تک کھنچ سکتی ہے،مگر اس کے باوجود برقی سگنلز درست انداز میں ریکارڈ کرتی رہتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے دماغ کے ای ای جی، دل کے ای سی جی اور پٹھوں کے ای ایم جی سگنلز کی مسلسل نگرانی کی جا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیاہی میں مختلف رنگ بھی شامل کیے جا سکتے ہیں،جس سے صارف اپنی پسند کے مطابق اسے کسی ڈیزائن یا کارٹون کی شکل دے سکتا ہے اس وجہ سے یہ بچوں اور ایسے افراد کے لیے بھی زیادہ قابلِ قبول ہو سکتی ہے جو روایتی طبی آلات استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

 

تحقیق کے مطابق یہ الیکٹرانک ٹیٹو اتنے باریک ہیں کہ پہننے والے کو ان کی موجودگی کا زیادہ احساس نہیں ہوتا۔ یہ پسینے اور جسمانی ورزش کے دوران بھی کئی گھنٹوں تک مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کو روبوٹک ہاتھ کنٹرول کرنے کے تجربات میں بھی کامیابی سے آزمایا،جہاں صرف بازو کے پٹھوں کے برقی سگنلز کی مدد سے روبوٹک ہاتھ کو حرکت دی گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی جسم میں گلوکوز، کورٹیسول اور دیگر اہم بایومارکرز کی نگرانی بھی کر سکے گی جس سے ذیابیطس، بچوں کی صحت اور دیگر طبی شعبوں میں نئی سہولتیں میسر آ سکتی ہیں۔

ان کے مطابق یہ نئی ایجاد مستقبل کی ویئرایبل (پہننے کے قابل) طبی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں