جنوبی کوریا اور امریکا کے محققین پر مشتمل ایک ٹیم نے ایسی جدید روبوٹک ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جو کسی بھی شخص کو اپنے ہاتھ استعمال کیے بغیر یا دوسروں کی مدد کے بغیر کپڑے پہننے کے قابل بنا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں بزرگوں، مریضوں، معذور افراد، کلین رومز اور ہنگامی طبی خدمات میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کیسٹ) اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ اس میں کپڑوں کے اندر ہوا کے دباؤ سے چلنے والی نرم اور لچک دار روبوٹک شاخیں نصب کی گئی ہیں، جو ہوا بھرنے پر کپڑوں کو اوپر اٹھاتے ہوئے خود بخود جسم پر چڑھا دیتی ہیں۔
محققین کے مطابق اس نظام کا طریقۂ کار آئیوی (آئی وی وائے) بیل سے متاثر ہے جو اپنے پورے جسم کو حرکت دینے کے بجائے صرف سرے کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف سطحوں پر چڑھتی ہے۔ یہی اصول روبوٹک شاخوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حرکت کرتے ہوئے بھی کپڑوں کو جسم پر درست انداز میں چڑھا سکیں، حتیٰ کہ اگر صارف چل رہا ہو یا ساکن نہ ہو۔

تحقیقی منصوبے کے مرکزی محقق اور کیسٹ کے پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچر کم نام جیون نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس تصور کا خیال انہیں اس وقت آیا جب وہ سائیکل چلا رہے تھے اور اچانک بارش شروع ہو گئی۔ ان کے بقول، انہوں نے سوچا کہ اگر برساتی خود بخود انہیں ڈھانپ لے جبکہ وہ سائیکل چلاتے رہیں تو یہ کتنا مفید ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ روبوٹک شاخیں حرکت کے دوران کپڑوں کو اندر سے باہر کی طرف پلٹتے ہوئے جسم پر مضبوطی سے چڑھا دیتی ہیں، جبکہ ایک مکمل سوٹ پہننے کا عمل تقریباً 10 سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ صارف کو ساکن کھڑے ہونے یا کسی پیچیدہ کنٹرول سسٹم کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
انسٹی ٹیوٹ کے شعبۂ سول اینڈ انوائرمنٹل انجینئرنگ کے پروفیسر ریو جی-ہوان نے بتایا کہ آئیوی بیل سے متاثر یہ روبوٹک نظام تنگ جگہوں سے گزرنے، مختلف ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے اور پھسلن، چپچپی یا ڈھلوان سطحوں پر بھی مؤثر انداز میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ بزرگوں، مریضوں اور معذور افراد کی مدد کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی ایسے شعبوں میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے جہاں حفاظتی لباس فوری طور پر پہننے یا اتارنے کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کے کلین رومز اور ہسپتالوں میں ہنگامی طبی خدمات انجام دینے والا عملہ۔
پروفیسر ریو کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث عمومی توجہ سافٹ ویئر پر مرکوز ہے، تاہم یہ تحقیق اس بات کی واضح مثال ہے کہ مکینیکل انجینئرنگ اور سافٹ ویئر کے مؤثر امتزاج سے نئی اور عملی ٹیکنالوجیز کیسے وجود میں آ سکتی ہیں۔




















