امریکا میں پہلی بار ڈاکٹرز کی نگرانی میں انسان نما روبوٹس نے زندہ جانور پر کامیاب دوربین نما جراحی کرتے ہوئے پتے کا آپریشن مکمل کرلیا۔
امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے انجینئرز اور ڈاکٹرز نے پہلی بار انسان نما روبوٹس کی مدد سے زندہ سور پر کامیاب جراحی کرکے طبی شعبے میں اہم سنگ میل عبور کرلیا۔
تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق روبوٹ نے ڈاکٹر کی ہدایات پر دوربین نما جراحی کے ذریعے پتے کو کامیابی سے نکالا۔ اس دوران ڈاکٹر ایک کنٹرول نظام کے ذریعے روبوٹ کو چلا رہا تھا جب کہ ایک دوسرا ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں معاونت کر رہا تھا۔
تحقیق سے قبل روبوٹس کی باریک اور نازک حرکات کا مختلف آلات اور اشیا پر تجربہ کیا گیا تاکہ ان کی درستگی اور صلاحیت کا جائزہ لیا جاسکے۔
کامیاب آزمائش کے بعد زندہ جانور پر آپریشن کیا گیا جو کامیابی سے مکمل ہوا۔ ایک موقع پر معمولی خون بہنے کی شکایت سامنے آئی تاہم اسے فوری طور پر قابو میں لے لیا گیا۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی میں ابھی کچھ خامیاں موجود ہیں جن میں آلات کا آپس میں ٹکرانا، اشاروں کی ترسیل میں معمولی تاخیر اور دورانِ جراحی روبوٹ کی بار بار ترتیب درست کرنا شامل ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس نظام میں بہتری کی رفتار ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تیز ہوگی۔
ماہرین کے مطابق انسان نما روبوٹس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ موجودہ جراحی مشینوں کے مقابلے میں کم جگہ گھیرتے ہیں، آسانی سے ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کیے جاسکتے ہیں اور مستقبل میں دور دراز علاقوں، قدرتی آفات سے متاثرہ مقامات، جنگی حالات، حتیٰ کہ خلائی مشنوں میں بھی مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ٹیکنالوجی سے ایسے علاقوں میں بھی معیاری علاج ممکن ہوسکے گا جہاں ماہر ڈاکٹر یا مکمل طبی عملہ دستیاب نہیں ہوتا۔




















