فرانس میں ہونے والی مشترکہ میڈیا گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایک اہم اور وسیع البنیاد معاہدے کی تفصیلات جاری کیں جسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں جس کے بعد اہم عالمی تجارتی راستہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہازوں نے اس راستے سے دوبارہ آمدورفت شروع کر دی ہے جبکہ یہ گزرگاہ جمعہ تک مکمل طور پر معمول کے مطابق ہو جائے گی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس وقت وہاں زیادہ سمجھدار اور ذمہ دار قیادت موجود ہے جس نے امن کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد تہران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا اور خطے میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے پر عملدرآمد سے قبل ایران کو کسی قسم کی پابندیوں میں ریلیف نہیں دیا جائے گا اور یہ ریلیف مکمل طور پر ایران کے وعدوں اور اقدامات سے مشروط ہوگا۔ اگر ایران طے شدہ شرائط پر عمل نہیں کرتا تو پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ سابق امریکی صدر اوباما کے دور کے معاہدے سے بالکل مختلف ہے اور اس کا مقصد عالمی امن کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹس میں بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاہدے کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عالمی توانائی سپلائی کو استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ G7 اجلاس اس پیش رفت کے باعث مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
میکرون نے یہ بھی بتایا کہ فرانس خطے میں سمندری سیکیورٹی اور آبنائے ہرمز میں استحکام کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
امریکی صدر نے اعلان کیا کہ معاہدے پر حتمی دستخط کے لیے جے ڈی وینس شریک ہوں گے جبکہ دستخط کے بعد مکمل ڈیل کا مسودہ جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
ٹرمپ نے لبنان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کا جلد خاتمہ ضروری ہے۔

















