نیپال میں قیامت خیز سیلاب کے باعث 359 ہلاک اور 900 سے زائد افراد لاپتا ہو گئے ہیں جبکہ سرحد پر بننے والی جھیل پھٹنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے جس کی وجہ سے اگلے 3 دن انتہائی خطرناک قرار دیئے گئے ہیں۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے ہولناک فلیش فلڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب نے گھر تباہ، سڑکیں زیر آب اور پل بہا دیے، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے اور تباہ شدہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
نیپال میں کم از کم 359 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 900 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پولیس، فوج اور مسلح پولیس فورس کے 9,260 اہلکار بڑے پیمانے پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس سانحے نے کئی خاندانوں کو بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹیکساس سے تبت زیارت کے لیے جانے والے ایک جوڑے کی دو بیٹیاں اپنے والدین کی خیریت کی خبر کی شدت سے منتظر ہیں۔ دونوں بہنوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والدین سے بہت محبت کرتی ہیں اور صرف یہ چاہتی ہیں کہ وہ گھر واپس آ جائیں۔
تبت میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ وہاں کم از کم 558 افراد کے لاپتا ہونے اور 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ تبت کے لاپتا افراد کے اعداد و شمار میں نیپال سے متعلق کوئی اوورلیپ شامل ہے یا نہیں۔
سرحد کے دونوں جانب سیکڑوں غیر ملکیوں کے بھی لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نیپال کے مطابق لاپتا افراد میں بھارت کے 178 سیاح، نیپال کے 127 شہری، 65 امریکی اور 33 برطانوی شہری شامل ہیں۔ فوج اور پولیس کے درجنوں اہلکار بھی لاپتا ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس تباہ کن سیلاب کی بنیادی وجہ گلیشیئر کا انہدام اور ملبے کا انتہائی تیز بہاؤ بتایا گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ علاقے میں مزید سیلاب بھی آ سکتے ہیں۔
سب سے بڑا خطرہ اب ایک نئی جھیل بننے سے پیدا ہو گیا ہے۔ چین-نیپال سرحد کے قریب پانی کی بڑھتی ہوئی مقدار سے ایک جھیل وجود میں آ گئی ہے، جس کے پھٹنے سے ایک اور خطرناک سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔
چینی ریسکیو ٹیمیں تبت میں گیئرونگ پورٹ کے قریب سیلاب کے خطرے کا جائزہ لے رہی ہیں۔ یہ جھیل نیپال کے چوچن دریا اور پروچانگپو زانگبو دریا کے سنگم کے قریب بنی ہے۔
چینی حکام کے مطابق اس وقت اس جھیل کو مستحکم کرنا اولین ترجیح ہے تاکہ زمین پر موجود امدادی کارکنوں کو مزید خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
چین کی وزارتِ آبی وسائل نے ماڈلنگ کے ذریعے جھیل میں موجود پانی کی مقدار کا اندازہ لگایا ہے۔ وزارت کے مطابق اگر بارش مسلسل جاری رہی تو اگلے تین دن کے اندر جھیل کے کنارے ٹوٹنے اور پانی کے اچانک بہہ نکلنے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے۔
چینی حکام نے ممکنہ بند ٹوٹنے کی صورت میں ہنگامی تیاری شروع کر دی ہے اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایک طرف ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد اور لاپتا لوگوں کی تلاش میں جانیں لڑا رہے ہیں، تو دوسری طرف سرحد کے قریب بننے والی نئی جھیل نے ایک اور ممکنہ تباہی کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ آنے والے تین دن متاثرہ علاقوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔




















