تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کااصول نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہم آپس میں بھائی ہیں، ایک دوسرے پرحکمران نہیں ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹی وی کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمسایوں سے تعلقات کے معاملے میں ہم کچھ سست ہیں جس کے باعث مختلف آوازیں بلندہو نا شروع ہوجاتی ہیں تاہم محسن رضائی کی آمدسے مشترکہ نکتہ نظرتک پہنچ رہے ہیں۔
مسعودپزشکیان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلامی ممالک سے تعلقات آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ موقف ضروری ہے ہم اسلامی ممالک سے لڑائی کیوں کریں؟ خطے کی سیکیورٹی کی مشترکہ طورپرضمانت کیوں نہ دیں؟ باہمی تعاون،آمدورفت اورگفتگوسے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دورسے ایک دوسرے کوپیغامات بھیجنے سے مشکلات حل نہیں ہوتیں گفتگو کے ساتھ ایک دوسرے کی پریشانیوں کوبھی دیکھناہوگا، پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی کے ساتھ مل کربیٹھنے کی کوشش کررہے ہیں، یواے ای،قطر،عمان،مصر،ترکمانستان،آذربائیجان کے ساتھ بھی مشترکہ نشست چاہتے ہیں۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ گراؤنڈ تیارہے سب کواپنے اپنے نکتہ نظرکی اصلاح کرنی چاہیے نکتہ نظرمیں اصلاح سے برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات آسانی سے قائم ہوسکتے ہیں طاقت کی بنیادپربات کی جائے تودوسرا بھی اپنی طاقت کاحوالہ دیتاہے ہم آپس میں بھائی ہیں ایک دوسرے پرحکمران نہیں ہیں ہاتھ میں ہاتھ دیکرخطے کوپرامن بناناہوگا۔
مسعودپزشکیان نے مزید کہاکہ اسرائیل کواسلامی ممالک پر آسانی سے جارحیت کی اجازت نہیں دینی چاہیے اتحادووحدت کے ساتھ خطے میں امن قائم کرناممکن ہے۔


















