Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے حکومت کا مختلف تجاویز پر غور

ماہانہ 2 سے 3 لاکھ روپے تنخواہ حاصل کرنے والے ساڑھے 5 لاکھ افراد کو ریلیف ملنے کا امکان ہے

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق مختلف آمدنی والے افراد کے لیے متعدد تجاویز زیر غور ہیں اور حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ 1، 2 اور 3 لاکھ روپے تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ  تنخواہ دار طبقے کے لیے موجودہ 6 ٹیکس سلیبز کو 8 تک بڑھانے کی تیاری ہے۔

اسی طرح  سالانہ 12، 22 اور 32 لاکھ روپے آمدنی والے افراد کو 3، 5 یا 10 فیصد تک ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز ہے جبکہ 41 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ آمدنی والے افراد کے لیے موجودہ آخری سلیب 70 لاکھ روپے تک بڑھانے اور 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد آمدنی والے افراد کے لیے نئی ٹیکس سلیب متعارف کرانے کی تیاری ہے۔

1  کروڑ روپے یا اس سے زائد آمدنی پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے اگر آئی ایم ایف کی منظوری نہ ملی تو سرچارج 5 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

 ماہانہ 2 سے 3 لاکھ روپے تنخواہ حاصل کرنے والے ساڑھے 5 لاکھ افراد کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ 41 لاکھ یا زائد سالانہ آمدنی والے افراد پر 35 فیصد ٹیکس شرح میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

برآمدکنندگان پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے جس سے اگلے بجٹ میں ایکسپورٹرز کو 60 ارب روپے تک ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان آج تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف پر حتمی مذاکرات متوقع ہیں۔