لاہور کی عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری اس وقت سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنے ہوئے اس کی وجہ ان کی ایک ویڈیو ہے جو تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔
حال ہی میں ایک ویڈیو میں مجید غوری کو بی ایم ڈبلیو سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو کہ تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین کی بڑی تعداد نے کلپ میں ان کو پہچان کر حیرت کا اظہار کیا۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد مجید غوری کو ’’وی آئی پی‘‘ قرار دیا جبکہ دیگر صارفین نے کہا کہ وہ انہیں اکثر لاہور میں رکشوں کے پیچھے لگے بینرز پر دیکھتے رہے ہیں۔
یہ ویڈیو کلپ اس لیے زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ غوری کو رکشہ ڈرائیورز کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور یونین کے ایک عوامی نمائندے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
مجید غوری ایک نمایاں لیبر رائٹس ایکٹوسٹ ہیں اور ہزاروں آٹو رکشہ ڈرائیورز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
وہ اکثر رکشہ ڈرائیورز کی جانب سے حکومتی پالیسیوں، ٹریفک چالانز اور پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندیوں جیسے مسائل پر مذاکرات کرتے ہیں۔
ان کی یہ وائرل ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے، اور صارفین اس کلپ کو لاہور کے رکشہ ڈرائیورز کے نمائندے کے طور پر ان کے کردار سے جوڑ رہے ہیں۔
ویڈیو دیکھیں:




















